ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 274

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۴ جلد دوم نام ہے۔ اور جو امور وصایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا اللہ تعالی کے احکام کے خلاف نہ ہوں اور نہ ان میں ریا کاری مد نظر ہو بلکہ بطور اظہار شکر و تحدیث بالنعمۃ ہوں تو اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے۔ ہمارے علماء تو یہاں تک بعض اوقات مبالغہ کرتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ایک مولوی نے ریل کی سواری کے خلاف فتویٰ دیا اور ڈاکخانہ میں خط ڈالنا بھی وہ گناہ بتاتا تھا ۔ اب یہاں تک جن لوگوں کی حالت پہنچ جاوے ان کے پاگل یا نیم پاگل ہونے میں کیا شک باقی رہا؟ یہ حماقت ہے۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ میر افلاں فعل اللہ تعالیٰ کے فرمودہ کے موافق ہے یا خلاف ہے اور جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ کوئی بدعت تو نہیں اور اس سے شرک تو لازم نہیں آتا اگر ان امور میں سے کوئی بات نہ ہو اور فساد ایمان پیدا نہ ہو تو پھر اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات کا لحاظ رکھ لے۔ میں نے بعض مولویوں کی نسبت ایسا بھی سنا ہے کہ صرف ونحو وغیرہ علوم کے پڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں اور اس کو بدعت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہ علوم نہ تھے یہ پیچھے سے نکلے ہیں اور ایسا ہی بعض نے توپ یا بندوق کے ساتھ لڑنا بھی گناہ قرار دیا ہے۔ ایسے لوگوں کے احمق ہونے میں شک کرنا بھی غلطی ہے قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جیسی طیاری وہ کریں تم بھی ویسی ہی طیاری کرو۔ یہ مسائل دراصل اجتہادی مسائل ہیں اور ان میں نیت کا بہت بڑا دخل ہے غرض ہمارا یہ فعل اللہ تعالیٰ جانتا ہے محض اس کی شکرگزاری کے اظہار کے لئے ہے۔ ہمیشہ حسن ظن سے کام لینا چاہیے بعض اوقات ایسا ہی ہوتا ہےکہ یہاں کوئی کام ہوتا ہے اور جو لوگ حسن ظن سے کام نہیں لیتے یا اسرار شریعت سے ناواقف ہوتے ہیں بعض وقت ان کو ابتلا آجاتا ہے اور وہ کچھ کا کچھ سمجھ لیتے ہیں ۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کہانیاں سنارہے ہیں اس وقت اگر کوئی نادان اور نا اہل آپ کو دیکھے اور آپ کے اغراض کو مد نظر نہ رکھے تو اس نے ٹھو کر ہی کھانی ہے۔ یا ایک مرتبہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے اور دوسری بیوی نے آپ کے لیے شورے کا پیالہ بھیجا تو حضرت عائشہ نے اس پیالے کو گرا کر پھوڑ دیا اب ایک نا واقف حضرت عائشہ کے اس فعل پر