ملفوظات (جلد 2) — Page 21
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱ جلد دوم ہے۔ اس لحاظ سے احمد میں رحیمیت کا ظہور ہے۔ پس اللہ، محمد (رحمن ) احمد ( رحیم ) ہے ۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ان دو عظیم الشان صفات رحمانیت اور رحیمیت کے مظہر تھے۔ یعنی وہ مر جاتا ہے پھر انسان کسی زندگی پر خیالی پلاؤ پکا تا اور لمبی امیدیں باندھتا ہے۔ ۲۔ دنیا ایک ریل گاڑی دنیا ایک ریل گاڑی ہے اور ہم سب کو عمر کے ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔ جہاں جہاں کسی کا سٹیشن آتا جاتا ہے اس کو اُتار دیا جاتا ہے۔ معراج انقطاع تام تھا اور ستر اس میں یہ تھا کہ تا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۳۔ معراج کا بستر کے نقدر نفس کو ظاہر کیا جاوے۔ آسمان پر ہر ایک روح کے لیے ایک نقطہ ہوتا ہے۔ اس سے آگے وہ نہیں جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطہ نفسی عرش تھا اور رفیق اعلیٰ کے معنے بھی خدا ہی کے ہیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کوئی معزز و مکرم نہیں ہے۔ نماز کا ہے۔ پانچ وقت دعا کا موقع ملا ہے۔ کوئی دعا نماز انسان کا تعویذ ہے ۔ پانچ وقت دعا کا موقع ملتا ہے۔ کوئی دعا تو ۴۔ نماز تعویذ ہے سنی جائے گی۔ اس لیے نماز کو بت سنوار کر پڑھنا چاہیے اور مجھے یہی بہت عزیز ہے۔ ۵۔ فاتحہ کی سات آیات کی حکمت سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں اس واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں ۔ پس ہر ایک آیت گویا ایک دروازہ سے بچاتی ہے۔ اعلیٰ درجہ کی خوشی خدا میں ملتی ہے۔ جس سے پرے کوئی خوشی نہیں ہے۔ -۶- اصل جنت جنت پوشیدہ کو کہتے کو جنت اس لیے کہتے ہیں جنت پوشیدہ کو کہتے ہیں اور جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ نعمتوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اصل جنت خدا ہے۔ جس کی طرف تردد منسوب ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے بہشت کے اعظم ترین انعامات میں رِضْوَانٌ مِّنَ اللهِ أَكْبَرُ (التوبۃ : ۷۲) ہی رکھا ہے۔ انسان انسان کی حیثیت سے کسی نہ کسی دکھ اور تردد میں ہوتا ہے مگر جس قدر قرب الہی حاصل کرتا جاتا ہے اور تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ