ملفوظات (جلد 2) — Page 266
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۶ جلد دوم پس جس طرح نبیوں یا رسولوں کو پرکھا گیا مجھے پرکھ لو اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس معیار پر مجھے صادق پاؤ گے۔ یہ باتیں میں نے مختصر طور پر کہی ہیں ان پر غور کرو اور خدا سے دعائیں کرو وہ قادر ہے کوئی راہ کھول دے گا اس کی تائید اور نصرت صادق ہی کو ملتی ہے۔ فقط ہے نواب محمد علی خان صاحب کے ایک سوال کے جواب میں تقریر جب حضرت صاحبزادہ بشیر احمد ، شریف احمد اور مبارکہ بیگم کی آمین ہوئی اس وقت جیسا کہ حضرت حجتہ اللہ کا معمول ہے کہ خدا تعالیٰ کے انعام وعطا یا پر شکریہ کے طور پر صدقات دیتے ہیں آپ نے شکریہ کے طور پر ایک دعوت دی اس پر حضرت نواب صاحب قبلہ نے ایک سوال کیا کہ حضور یہ آمین جو ہوئی ہے یہ کوئی رسم ہے یا کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ فرمایا وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں ۔ شبہ کا ازالہ کروانا صفائی قلب کا نشان ہے فرمایا۔ جوار یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر کے پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر سو چا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے۔ میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں جس سے وہ اندر ہی اندر نشوونما پا تا رہتا ہے اور پھر اپنے شکوک اور شبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے ایسی کمزوری نفاق تک پہنچا دیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔ میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کرلے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر سوال کرنا بھی مناسب نہیں اس سے منع فرمایا الحکم جلدے نمبرے مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۱ تا ۳