ملفوظات (جلد 2) — Page 265
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۵ جلد دوم سے خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر جو طریق ثبوت کا رکھا ہوا ہے وہ مجھ سے جس کا جی چاہے لے لے۔ نشانات صداقت جو نشانات میری تائید میں ظاہر ہوئے ہیں ان کو دیکھ لو۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں ان مخالفوں کی حالت پر نظر کرتا ہوں کہ جن امور کو بطور نشان پیش کیا کرتے تھے اب وہ جب پورے ہو گئے تو ان کی صحت پر اعتراض کرنے لگے مثلاً کسوف خسوف والی پیشگوئی کو اب کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں ۔ مگر کوئی ان سے پوچھے کہ جس کو خدا تعالیٰ نے صحیح ثابت کر دیا کیا اب وہ ان کے کہنے سے جھوٹی ہو جائے گی؟ افسوس تو یہ ہے کہ اتنا کہتے ہوئے ان کو شرم نہیں آتی کہ اس سے ہم مسیح موعود کی تکذیب نہیں کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کر رہے ہیں میری تصدیق اور تائید کے لئے ایک کسوف خسوف ہی نہیں ہزار ہا دلائل اور شواہد ہیں اور اگر ایک نہ بھی ہو تو کچھ بگڑتا نہیں مگر اس سے یہ تو پایا جائے گا کہ یہ پیشگوئی غلط ہوئی ۔ افسوس یہ لوگ میری مخالفت میں سید الصادقین کی پیشگوئی کو باطل کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم اس پیشگوئی کو بڑے زور سے پیش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے آقا کی صداقت کا نشان ہے۔ پس حدیث جس کو جس کو تم ظن کی سیاہی سے لکھتے تھے واقعہ نے اس نہ نے اس کی صداقت کو یقین تک پہنچا دیا اب اس سے انکار کرنا بے ایمانی اور لعنت ہے۔ موضوع احادیث میں کیا محدث یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے چور پکڑ لیا ہے؟ نہیں بلکہ یہی کہیں گے کہ کسی کا حافظہ درست نہیں یا راست باز ہونے میں کلام ہے مگر محدثین نے یہ اصول تسلیم کر لیا ہے کہ ایک حدیث اگر ضعیف بھی ہو مگر اس کی پیشگوئی پوری ہو یہ جاوے تو وہ صحیح ہوتی ہے پھر اس معیار پر کیونکر کوئی یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ۔ پس یا درکھو کہ آنے والا یا تو نصوص صریحہ سے پرکھا جاتا ہے وہ اس کی تائید کرتی ہیں اور پھر عقل چونکہ بدوں نظیر نہیں مان سکتی عقلی نظائر اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر خدا کی تائیدیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اگر کسی کو کوئی شک و شبہ ہو تو وہ میرے سامنے آئے اور ان طریقوں سے جو منہاج نبوت پر ہیں میری سچائی کا ثبوت مجھ سے لے۔ میں اگر جھوٹا ہوں گا تو بھاگ جاؤں گا مگر نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انیس برس پہلے مجھے کہا يَنْصُرُكَ اللهُ فِي مَوَاطِنَ ۔