ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 267

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۷ جلد دوم گیا ہے لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ ( المائدة : ۱۰۲) اور ایسا ہی اس سے بھی منع کیا گیا ہے کہ آدمی جاسوسی کر کے دوسروں کی برائیاں نکالتا رہے یہ دونوں طریق بڑے ہیں لیکن اگر کوئی امر اہم دل میں کھٹکے تو اسے ضرور پیش کر کے پوچھ لینا چاہیے یہ ایسی ہی بات ہے کہ اگر کوئی شخص خراب غذا کھا لے اور وہ پیٹ میں جا کر خرابی پیدا کرے اور اس سے جی متلانے لگے تو چاہیے کہ فورائے کر کے اس کو نکال دیا جائے لیکن اگر وہ اس کو نکالتا نہیں تو پھر وہ آلات ہضم میں فتور پیدا کر کے صحت کو بگاڑ دے گی جیسے ایسی غذا کو فوراً نکالنا چاہیے جو بات دل میں کھٹکے اسے جلد باہر نکال دو۔ غرض میں اس کو آپ کی سعادت کی نشتہ اسعادت کی نشانی سمجھتا ہوں کہ آپ جو بات سمجھ میں نہ آوے اسے پوچھ لیتے ہیں اور اس کو اعتراض بن جانے کا موقع نہیں دیتے۔ بخاری کی پہلی حدیث یہ ہے إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ اعمال نیت ہی پر منحصر ہیں صحت نیت کے ساتھ کوئی جرم بھی جرم نہیں رہتا ۔ قانون کو دیکھو اس میں بھی نیت کو ضروری سمجھا ہے مثلاً ایک باپ اگر اپنے بچے کو تنبیہ کرتا ہو کہ تو مدرسہ جا کر پڑھ اور اتفاق سے کسی ایسی جگہ چوٹ لگ جاوے کہ وہ بچہ مر جاوے تو دیکھا جاوے گا کہ یہ قتل عمد مستلزم السز انہیں ٹھہر سکتا کیونکہ اس کی نیت بچے کو قتل کرنے کی نہ تھی تو ہر ایک کام میں نیت پر بہت بڑا انحصار ہے اسلام میں یہ مسئلہ بہت سے امور کو حل کر دیتا ہے۔ پس اگر نیک نیتی کے ساتھ محض خدا کے لئے کوئی کام کیا جاوے اور دنیا داروں کی نظر میں وہ کچھ ہی ہو تو اس کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ تحدیث نعمت کے آداب یاد رکھ کہ انسان کوچاہیے کہ ہروقت اور ہرحالت میں دعا کا طالب رہے اور دوسرے أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ (الضحى : ١٢) پر عمل کرے۔ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہیے اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اس کی اطاعت اور فرماں برداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ تحدیث کے یہی معنے نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتا رہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہیے مثلاً ایک شخص کو اللہ تعالی نے توفیق دی ہے کہ وہ عمدہ کپڑے پہن سکتا ہے لیکن وہ ہمیشہ میلے کچیلے کپڑے پہنتا ہے