ملفوظات (جلد 2) — Page 18
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸ جلد دوم میں پھر رحمن ہے پھر رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔ اب إِيَّاكَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت ، مالکیت صفات کا پرتو انسان کو اپنے اندر لینا چاہیے ۔ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے اور جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے ۔ اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الہی کی طرف اسے لے جاتا ہے۔ اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: ۵۱) کی ہوتی ہے۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۰ء حسب معمول حضرت اقدس امام همام علیہ الصلوۃ السلام سیر کو تشریف لے گئے۔ راستہ میں آپ نے فرمایا کہ میرے دعوی کا فہم کلید ہے نبوت اور قرآن شریف کی ۔ نبوت اور قرآن شریف کی کلید مشخص میرے دعوی کوسمجھ لے گا نبوت کی حقیقت اور جو ، قرآن شریف کے فہم پر اس کو اطلاع دی جاوے گی اور جو میرے دعوی کو نہیں سمجھتا۔ اس کو قرآن شریف پر اور رسالت پر پورا یقین نہیں ہو سکتا۔ پھر فرمایا۔ قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ اتباع امام خلقت (الغاشية: ۱۸) یہ آیت نبوت اور امامت کے مسئلہ کو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔ اونٹ کے عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے اہل کے لفظ کو جولیا گیا ہے۔ اس میں کیا ستر ہے؟ کیوں! إِلَى الْجَمَل بھی تو ہو سکتا تھا ؟ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جمل ایک اونٹ کو کہتے ہیں اور اہل اسم جمع ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کو چونکہ تمدنی اور اجماعی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور جمل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا ، اس لیے اہل کے لفظ کو پسند فرمایا۔ اونٹوں میں ایک دوسرے کی پیروی اور اطاعت الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۱ء صفحه ۴