ملفوظات (جلد 2) — Page 17
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷ جلد دوم اور جب مقرب انسان دعا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنی خدائی کے جلال کے ساتھ اس پر تجلی فرماتا ہے اور اپنی روح اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی محبت سے بھرے ہوئے لفظوں کے ساتھ اس کو قبول دعا کی بشارت دیتا ہے اور جس کسی سے یہ مکالمہ کثرت سے وقوع میں آتا ہے اس کو نبی یا محدث کہتے ہیں۔ سچے مذہب کی علامت اور سچے مذہب کی یہ نشان ہے کہ اس مذہب کی تعلیم سے ایسے راستباز پیدا ہوتے ہیں جو محدث کے درجہ تک پہنچ جائیں جن سے خدا تعالیٰ آمنے سامنے کلام کرے اور اسلام کی حقیقت اور حقانیت کی اوّل نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا تعالیٰ ہم کلام ہو پیدا ہوتے ہیں تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدۃ: ۳۱) سو یہی معیار حقیقی سچے اور زندہ اور مقبول مذہب کا ہے اور ہم اس روشنی سے بے نصیب ہیں جانتے ہیں کہ یہ نور صرف اور صرف اسلام اسلام میں ہے دوسرے مذاہب اس روستی سے ۔ : اور ان مذاہب کے بطلان کے لئے یہی دلیل ہزار دلیل سے بڑھ کر ہے کہ مردہ ہرگز زندہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ اندھا سو جاکھے کے ساتھ پورا اتر سکتا ہے۔ وَلَنِعْمَ مَا قِيلَ کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے ه یہ ثمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے اور دار النجاۃ میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لا إلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ہے۔ لِلَّهِ رَبِّ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاؤ میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ الحمد یاو رکت الْعَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے اندر لے یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ساری صفتیں سزاوار ہیں جو رب العالمین ہے۔ یعنی ہر عالم میں ، نطفہ میں ، مضغہ وغیرہ سارے عالموں میں ، غرض ہر عالم الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۱ صفحه ۴