ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 19

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹ جلد دوم کی قوت رکھی ہے ۔ دیکھو! اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے اور وہ کس طرح پر اس اونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں ۔ اور وہ اونٹ جو سب سے پہلے بطور امام اور پیشرو کے ہوتا ہے وہ ہوتا ہے جو بڑا تجربہ کار اور راستہ سے واقف ہو۔ پھر سب اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے برابر رفتار سے چلتے ہیں اور ان میں سے کسی کے دل میں برابر چلنے کی ہوس پیدا نہیں ہوتی جو دوسرے جانوروں میں ہے جیسے گھوڑے وغیرہ میں ۔ گویا اونٹ کی سرشت میں اتباع امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ کہہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جارہے ہوں ۔ اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہو۔ پھر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے۔ پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔ پھر اونٹ زیادہ بارکش اور زیادہ چلنے والا ہے۔ اس سے صبر و برداشت کا سبق ملتا ہے۔ پھر اونٹ کا خاصہ ہے کہ وہ لمبے سفروں میں کئی کئی دنوں کا پانی جمع رکھتا ہے۔ غافل نہیں ہوتا۔ پس مومن کو بھی ہر وقت اپنے سفر کے لئے طیار اور محتاط رہنا چاہیے اور بہترین زادراہ تقویٰ ہے۔ فان خَيْرَ الزَّادِ التَّقوى (البقرة: ١٩٨) ۔ يَنظُرُونَ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھنا بچوں کی طرح دیکھنا نہیں ہے بلکہ اس سے اتباع کا سبق ملتا ہے کہ جس طرح پر اونٹ میں تمدنی اور اتحادی حالت کو دکھایا گیا ہے اور ان میں اتباع امام کی قوت ہے اسی طرح پر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتباع امام اپنا شعار بناوے کیونکہ اونٹ جو اس کے خادم ہیں ان میں بھی یہ مادہ موجود ہے۔ كَيْفَ خُلِقَت میں ان فوائد جامع کی طرف اشارہ ہے جو اہل کی مجموعی حالت سے کہ پہنچتے ہیں۔ تناسخ فرمایاکہ نتائج کا مسلہ اللہ تعالی ک سخت تو ہین کا باعث ہے اور اخلاقی قوتوں کو خاک کی میں ملا دینے والا ہے کیونکہ جب یہ مان لیا گیا کہ دنیا میں جو کچھ ملتا ہے وہ ہمارے