ملفوظات (جلد 2) — Page 16
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶ جلد دوم مقربان الہی کی علامت ه آں خدائے کہ از و اہل جہاں بے خبر اند بر من او جلوه نمود ست گر اہلی بپذیر یہ تو ہر ایک قوم کا دعوی ہے کہ بہتیرے ہم میں سے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں مگر ثبوت طلب یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ بھی ان سے محبت رکھتا ہے یا نہیں؟ اور خدا تعالیٰ کی محبت یہ ہے کہ پہلے تو ان دلوں پر سے پردہ اٹھا دے جس پردہ کی وجہ سے اچھی طرح انسان خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا اور ایک دھندلی سی اور تاریک معرفت کے ساتھ اس کے وجود کا قائل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات امتحان کے وقت اس کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے اور یہ پردہ اٹھایا جانا بجز مکالمہ الہیہ کے اور کسی صورت سے میسر نہیں آسکتا۔ پس انسان حقیقی معرفت کے چشمہ میں اس دن غوطہ مارتا ہے جس دن خدا تعالیٰ اس کو مخاطب کر کے آنا الْمَوْجُود کی اس کو آپ بشارت دیتا ہے۔ تب انسان کی معرفت صرف اپنے قیاسی ڈھکوسلہ یا محض منقولی خیالات تک محدود نہیں رہتی بلکہ خدا تعالیٰ سے ایسا قریب ہو جاتا ہے کہ گویا اس کو دیکھتا ہے اور یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان اسی دن اس کو نصیب ہوتا ہے کہ جب اللہ جل شانہ اپنے وجود سے آپ خبر دیتا ہے۔ اور پھر دوسری علامت خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ ہے کہ اپنے پیارے بندوں کو صرف اپنے وجود کی خبر ہی نہیں بلکہ اپنی رحمت اور فضل کے آثار بھی خاص طور پر ان پر ظاہر کرتا ہے اور وہ اس طرح پر کہ ان کی دعا ئیں جو ظاہری امیدوں سے زیادہ ہوں قبول فرما کر اپنے الہام اور کلام کے ذریعہ سے ان کو اطلاع دیتا ہے۔ تب ان کے دل تسلی پکڑ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا قادر خدا ہے جو ہماری دعائیں سنتا ہے اور ہم کو اطلاع دیتا ہے اور مشکلات سے ہمیں نجات دیتا ہے۔ اسی روز سے نجات کا مسئلہ بھی سمجھ میں آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی پتہ لگتا ہے۔ اگر چہ جگانے اور متنبہ کرنے کے لئے کبھی کبھی غیروں کو بھی سچی خواب آسکتی ہے مگر اس طریق کا مرتبہ اور شان اور رنگ اور ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا مکالمہ ہے جو خاص مقربوں ہی سے ہوتا ہے