ملفوظات (جلد 2) — Page 15
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵ جلد دوم بہشت کے انعامات کی بے انتہا درازی کو دیکھ کر مسرت بڑھتی ہے اور دوزخ کے ایک متعین عرصہ تک ہونے سے خدا تعالیٰ کے فرض پر امید پیدا ہوتی ہے۔ ایک شاعر نے اس کو یوں بیان کیا ہے ه گویند که بحشر جستجو خواهد بود واں یار عزیز تند خو خواهد بود از خیر محض شرے نیاید هرگز خوش باش که انجام بخیر خواهد بود او معجزات مسیح پر گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ معجزات کے اقسام معجزات تین قسم کے ہوتے ہیں۔ دعائیہ، اربایہ اورقوت قدسیہ کے معجزات ۔ ارہاصیہ میں دعا کو دخل نہیں ہوتا ۔ قوت قدسیہ کے معجزات ایسے ہوتے ہیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں انگلیاں رکھ دی تھیں اور لوگ پانی پیتے چلے گئے یا کنوئیں میں کب مبارک گرا دیا اور اس کا پانی میٹھا ہو گیا ۔ مسیح کے معجزات اس قسم کے بھی تھے۔ خود ہم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔ کے توجہ اور انبیاء علیہم السلام کی دعا میں عظیم الشان فرق ہوتا علم توجہ اور توجہ انبیاء میں فرق توجہ علیہم کی ہے۔ وہ توجہ جو مسمریزم والے کرتے ہیں وہ ایک کسب ہے اور وہ توجہ جو دعا سے پیدا ہوتی ہے ایک موهبت الہی ہے۔ نبی جبکہ بنی نوع کی ہمدردی سے متاثر ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی فطرت کو ہمہ توجہ بنادیتا ہے اور اس میں قبولیت کا نفخ رکھ دیتا ہے۔ سے الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۱ء صفحه ۳ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ سے الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۱ ء صفحه ۳، ۴