ملفوظات (جلد 2) — Page 175
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۵ جلد دوم لکھیں۔ پھر ایک دفعہ ایسا ہی مولوی صاحب نے حضرت اقدس سے سوال کیا۔ حضرت نے فرمایا۔ آریوں کے رد میں کتاب لکھو۔ تب مولوی صاحب نے تصدیق براہین احمد یہ لکھی اور فرمایا کہ ان ہر دو مجاہدوں میں مجھے بڑے بڑے فائدے ہوئے۔لے حضرت اقدس کی ایک تقریر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم دنیا سے بالکل انقطاع کر کے اس کی طرف جون ۱۹۰۱ء مسلمان وہ اور جو آدمی تبتل تام نہیں کرتا بلکہ کچھ رو بدنیا رہتا ہے اور کسی قدر رو بہ خدا بھی رہتا ہے وہ کبھی بھی مقصود اصلی کو حاصل پورے مسلمان بنو آجاؤ گے وہ خود تمہارا متوتی اور مشکل ہو جائے گا۔ جو آ نہیں کر سکتا۔ اسے نہ دین کی عزت مل سکتی ہے نہ دنیا کی ۔ خدا تعالیٰ تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم پورے مسلمان بنو۔ مسلمان کا لفظ ہی دلالت کرتا ہے کہ انقطاع کلی ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو مسلمان پیدا کر کے لا انتہا فضل کیے ہیں بشرطیکہ وہ غور کرے اور سمجھے۔ ایک ہندو سے رام چندر کے خدا ہونے یا کے خدا تعالیٰ کے خالق ہونے پر بحث کرو اس وقت تمہیں ایک لذت اور سرور آئے گا کہ تمہارا خدا کیسا قادر مطلق ، مني ، مُميت ، خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ خدا ہے اور برخلاف اس کے جنہوں نے رام چندر جیسے کھانے پینے کے محتاج انسان کو خدا بنایا ہے۔ جب یہ کہیں گے کہ اس کی بیوی کو راون نکال کر لے گیا تو کس قدر شرم اس خدا کے ماننے والوں کو دامنگیر ہو گی کہ عجیب خدا ہے جو اپنی بیوی کی بھی حفاظت نہیں کر سکا ایسا ہی آریہ جب اپنے خدا کی یہ صفت مخالف سے سنے گا کہ اس نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ اپنے کسی بڑے سے بڑے پر یمی اور بھگت کو بھی کبھی نجات نہیں دے سکتا ، یا اس الحکم جلد ۵ نمبر ۲۳ موخه ۲۴ جون ۱۹۰۱ صفحه ۱۱،۱۰