ملفوظات (جلد 2) — Page 176
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۶ جلد دوم نے ایسی شریعت انسانوں کے لئے بنائی کہ ایک مرد اپنی بیوی کو اولاد نہ ہونے کی صورت میں دوسرے مرد سے اولاد پیدا کرنے کے واسطے ہم بستری کی اجازت دے سکتا ہے تو اسے کیسا شرمندہ ہونا پڑے گا اگر اس میں غیرت اور حیا کا کوئی مادہ باقی ہو۔ لیکن مسلمان کیسا خوش ہو گا اور اس کی امیدیں کیسی وسیع ہوں گی جب اپنے خَالِقُ كُلّ شَیءٍ اور قدوس ، سبحان خدا کو پیش کرتا ہے۔ پس یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ اپنے اختیار اور ابرار کا نام ابدالآباد تک زندہ رہتا ہے برگزیدہ بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا چنانچہ فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ( التوبة : ۱۲۰) اخیار اور ابرار کا نام ابدالآباد تک زندہ رہتا ہے۔ گزشتہ زمانے کے بادشاہوں یہاں تک کہ قیصر و کسری کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ برخلاف اس کے خدا تعالیٰ کے راستبازوں اور برگزیدوں کی دنیا مداح ہے۔ دیکھو! ہمارے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر عظمت دنیا میں قائم ہے۔ ۹۴ کروڑ مسلمان آپ کے نام لینے والے موجود ہیں جو ہر وقت آپ پر درود پڑھتے ہیں۔ کیا کوئی قیصر و کسری پر بھی درود پڑھتا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کس قدر عظمت ہو رہی ہے یہاں تک کہ نادانوں نے اپنی جہالت اور کم مائیگی کی وجہ سے ان کو خدا بنا رکھا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رسولوں کا طبقہ مصائب اٹھا کر دنیا سے گزر گیا مگر ان کا خدا کے لئے دنیا کے عیش و آرام کو چھوڑ کر طرح طرح کے آلام و مصائب کے بار کو اٹھا لینا ان کی عظمت کا باعث ہو گیا۔ یہ بات نہیں ہے کہ خدا کے محبوبوں کو تکالیف آتی ہیں ۔ ان کی تکالیف میں ایک لطیف سر ہوتا ہے۔ ان پر اس لیے سب سے زیادہ تکالیف اور مصائب نہیں آتی ہیں کہ تباہ ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ تا زیادہ سے زیادہ پھل اور پھول میں ترقی کریں۔ دیکھو ! دنیا میں ہر جو ہر قابل کے لئے خدا نے یہی قانون ٹھہرایا ہے کہ اوّل وہ صدمات کا تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ کسان زمین میں ہل چلا کر اس کا جگر پھاڑتا ہے اور اس مٹی کو باریک کرتا ہے یہاں تک کہ ہوا کے جھونکے اسے ادھر اُدھر اڑائے لئے پھرتے ہیں ۔ نادان خیال کرے گا کہ زمیندار نے بڑی غلطی کی جو اچھی بھلی زمین کو خراب کر دیا مگر عقلمند خوب سمجھتا ہے کہ جب تک زمین کو اس درجہ تک نہ پہنچایا