ملفوظات (جلد 2) — Page 174
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۴ جلد دوم ہوتا ہے۔ مختصر خلاصہ ہماری تعلیم کا یہی ہے کہ انسان اپنی تمام طاقتوں کو خدا کی طرف لگا دے۔ مسیح ہونے کے متعلق مسیح علیہ السلام کی بن باپ ولادت حضرت پہنچ کے بے باپ پیدا ذکر تھا فرمایا۔ ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ تھے اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں۔ نیچری جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا ، وہ بڑی غلطی پر ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا مردہ خدا ہے اور ایسے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی ۔ کے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بے باپ پیدا نہیں کر سکتا۔ ہم ایسے آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ تمہاری حالتیں ایسی رڈی ہو گئی ہیں کہ اب تم میں کوئی اس قابل نہیں جو نبی ہو سکے یا اس کی اولاد میں سے کوئی نبی ہو سکے ۔ اس واسطے آخری خلیفہ موسوی کو اللہ تعالیٰ نے بے باپ پیدا کیا اور ان کو سمجھایا کہ اب شریعت تمہارے خاندان سے گئی ۔ اسی کی مثل خدا تعالیٰ نے آج یہ سلسلہ قائم کیا ہے کہ آخری خلیفہ محمدی یعنی مہدی ومسیح کو سیدوں میں سے نہیں بنایا بلکہ فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک کو خلیفہ بنایا تا کہ یہ نشان ہو کہ نبوت محمدی کی گدی کے دعوے داروں کی حالت تقوئی اب کیسی ہے۔ فرمایا۔انبیاء کا قاعدہ ہے کہ شخصی تدبیر نہیں کرتے۔ نوع کے پیچھے پڑتے ہیں۔ جہاں شخصی تدبیر آئی وہاں چنداں کا میابی نہ آئی چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ یہ حال ہوا۔ مدت کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اس زمانہ کا مجاہدہ مدت کی بات یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ اس سلسلہ میں کوئی مجاہدہ مجھے بتلائیے ۔ آپ نے فرمایا کہ عیسائیت کے رد میں کوئی کتاب لکھو۔ تب حضرت مولوی نورالدین صاحب نے کتاب فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب دو جلدیں لے شاید نیچریوں نے اسی لحاظ سے کہ وہ مردہ اور کمزور خدا ہے۔ دعا اور استجابت دعا سے انکار کر دیا ہے۔ (سراج الحق نعمانی )