ملفوظات (جلد 2) — Page 12
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲ جلد دوم اور حرب کو اٹھا دے گا۔ دوسری طرف اندرونی طور پر مصالحت کرا دے گا۔ گویا مسیح موعود کے لئے دون لئے دونشان ہوں گے۔ اول بیرونی نشان که حرب نہ ہوگی ۔ دوسرا اندرونی نشان که با ہم مصالحت ہو جاوے گی۔ پھر اس کے بعد فرما یا سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ۔ سلمان یعنی دو سطحیں اور پھر فرمایا علی مَشْرَبِ الْحَسَنِ یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ میں بھی دو ہی فلمیں تھیں ۔ ایک صلح تو انہوں نے حضرت معاویہ کے ساتھ کر لی اور دوسری صحابہ کی باہم صلح کرادی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود حسنِيُّ الْمَشْرَب ہے۔ اور حج الکرامہ میں نواب صدیق حسن خان نے لکھا بھی ہے کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ مہدی حسنی ہو گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ حسن کا دودھ پیے گا۔ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ مہدی آپ کی آل میں سے ہوگا ۔ یہ مسئلہ اس الہام سے حل ہو گیا اور مسیح موعود کا جو مہدی بھی ہے کام بھی معلوم ہو گیا۔ پس وہ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ آتے ہی تلوار چلائے گا اور کافروں کو قتل کرے گا جھوٹے ہیں ۔ اصل بات یہی ہے جو اس الہام میں بتلائی گئی ہے کہ وہ دو ملحوں کا وارث ہوگا۔ یعنی بیرونی طور پر بھی صلح کرے گا اور اندرونی طور پر بھی مصالحت ہی کرادے گا اور آل کا لفظ اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آل چونکہ وارث ہوتی ہے اس لئے انبیاء علیہم السلام کے وارث یا آل وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان کے علوم کے روحانی وارث ہوں ۔ اسی واسطے کہا گیا ہے کہ كُلُّ تَقِي ونقي الي۔ و مولوی جمال ما الدین صاحب ساکن سید والہ نے آیت مَا كَفَرَ سُلَین کی تفسیر قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر پوچھی۔ مَا كَفَرَ سليمن ( البقرة: ۱۰۳) اس کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ بعض نابکار قو میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو بت پرست کہتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان کی تردید کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف واقعات پر بحث کرتا ہے۔ اور قرآن کل دنیا کی صداقتوں کا مجموعہ ہے۔ اور سب دین کی کتابوں کا فخر ہے۔ جیسے فرمایا ہے فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ اور يَتْلُوا صُحُفًا مطهرة ( البينة: ۳، ۴) پس قرآن کریم کے معنی کرتے وقت خارجی قصوں کو نہ لیں بلکہ واقعات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ مثلاً قرآن کریم نے جو سورۃ فاتحہ کو اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة: ۲ تا ۴) اسماء سے شروع کیا تو اس میں کیا راز تھا۔ چونکہ بعض قو میں اللہ تعالیٰ کی ہستی