ملفوظات (جلد 2) — Page 11
ملفوظات حضرت مسیح موعود 11 جلد دوم جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرات کی ۔ اس لئے انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا میں آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک کے کل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ میں ہر قسم کی مضرتوں، ں سے بچنے کی دعا ہے۔ پھر فرمایا کہ اسلام کی نسبت جو کہتے ہیں کہ تلوار سے پھیلا۔ یہ اسلام تلوار سے نہیں پھیل بالکل نام ہے۔ اسلام نے تلور اس وقت تک نہیں اٹھائی جب تک رے دار سامنے تلوار نہیں دیکھی۔ قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ جس قسم کے ہتھیاروں سے دشمن اسلام پر حملہ کرے اسی قسم کے ہتھیار استعمال کرو۔ مہدی کے لئے کہتے ہیں کہ آکر تلوار سے کام لے گا۔ یہ صحیح نہیں ۔ اب تلوار کہاں ہے جو تلوار نکالی جاوے۔ پھر افسوس تو یہ ہے کہ باوجود یکہ مسیح ان لوگوں کے مسلمات کو تسلیم کرلے گا اور فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اترے گا مگر پھر بھی اس پر کفر کا فتوی دیا جائے گا۔ جیسا کہ کتابوں سے ثابت ہے بلکہ ایک شخص اٹھ کر کہہ دے گا إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ غَيْرَ دِينَنَا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت کے لوگ ان دلائل سے باخبر ہوں تا کہ کسی محفل میں ان کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ میر محمد سعید صاحب حیدر آبادی اور یعقوب علی اور چند دوست ایسی کتابیں سوال و جواب کے طور پر تالیف کریں جو ہمارے مقاصد کو لئے ہوئے ہوں اور مدرسہ میں رائج کی جاویں۔ al صبح کو حضرت اقدس علیہ السلام حسب معمول سیر کو تشریف لے گئے راہ ے ار اکتوبر ۱۹۰۰ ء میں فرمانے لگے کہ دفعہ ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ کشف اور الہام کی درمیانی حالت بہت دفعہ ایسا اته علیہ وسلم ایک بات بتلاتے ہیں میں اس کو سنتا ہوں مگر آپ کی صورت نہیں دیکھتا ہوں ۔ غرض یہ اک حالت ہوتی ہے جو بین الکشف والالہام ہوتی ہے۔ رات کو آپ نے مسیح موعود کے متعلق یہ فرمایا ہے۔ مسیح موعود کے دونشان يَضَعُ الْحُرْبَ وَ يُصَالِحُ النَّاس یعنی ایک طرف تو جنگ وجدال الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۳