ملفوظات (جلد 2) — Page 10
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰ جلد دوم میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے قابل کتاب ہو گی جبکہ اور کتا بیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی ۔ اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتا بیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی ۔ فرقان کے بھی یہی معنے ہیں۔ یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہوگی۔ فرمایا اور بڑے جوش اور تاکید سے فرمایا کہ ) اب سب کتابیں چھوڑ دو اور دن رات کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔ بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا ر ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کر دیں۔ بڑے تأسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتنا اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔ اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔ اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی ۔ اے ۱۴ اکتوبر ۱۹۰۰ء صبح کی سیر کے وقت حضرت اقدس نے فرمایا۔ خلق آدم اور زحل کی تاثیرات آدم عصر کے وقت چھٹے دن پیدا ہوا تھا۔ اس وقت مشتری کا دورہ ختم ہو کر زحل کا شروع ہونے والا تھا۔ چونکہ زحل کی تاثیرات خونریزی اور سفا کی ہیں ۔ اس لئے ملائکہ نے اس خیال سے کہ یہ زحل کی تاثیرات کے اندر پیدا ہو گا یہ کہا اتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا (البقرۃ: ۳۱) اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس طرح انسان ارضی تاثیرات اور بوٹیوں کے خواص سے واقف ہوتا ہے اس طرح پر آسمانی مخلوق آسمانی تاثیرات سے باخبر ہوتی ہے۔ پھر فرمایا کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں جہاں اَلرَّبُّ ، الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ، مَالِكِ يَوْمِ بہترین دعا الدانین کے حسن و احسان کی طرف سے تحریک ہوتی ہے ۔ وہاں انسان کی عاجزی ہے۔ اور بے کسی بھی ساتھ ہی محرک ہوتی ہے اور وہ إِيَّاكَ نَسْتَعِین کہہ اٹھتا ہے۔ دعا بہترین دعا وہ ہوتی ہے الحکم جلد ۴ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۵