ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 9

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹ جلد دوم فرمایا۔ اشاعت ہدایت کی تعمیل مسیح موعود کے ذریعہ مقدر ہے میری تجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس قسم کی اصلاح ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ بعد زمانہ ہی بجائے خود بہت کچھ قابلِ رحم حالت ہوتی ہے اور اس پر تو ہزاروں فتنے اور آفتیں بھی ہوں گی پھر قتال سے کیا فائدہ؟ خیر آخر میں یہ بھی لکھ دیا ہے لا مَهْدِ إِلَّا عِیسَی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات قرآن سے ہی ہے۔ جب ہم اس ترتیب کو دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو رسول اللہ کی زندگی کے دو ہی مقصد بیان فرمائے ہیں۔ تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت اور اول الذکر تکمیل چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن ہوئی۔ جبکہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة: (۴) نازل ہوئی اور دوسری تکمیل کے لئے بالا تفاق مانا گیا ہے کہ وہ مسیح ابن مریم یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی ۔ سب مفسروں نے بالا تفاق لکھ دیا ہے که هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى (الصف: ١٠) کی نسبت لکھتے ہیں کہ یہ مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی اور جبکہ پہلی تکمیل چھٹے دن ہوئی تو دوسری تکمیل بھی چھٹے دن ہی ہونی چاہیے تھی اور قرآنی دن ایک ہزار برس کا ہوتا ہے۔ گو یا مسیح موعود چھٹے ہزار میں ہوگا۔ پھر فرمایا کہ قرآن ہی پڑھنے کے قابل ہے۔ کیونکہ قرآن کے معنی ہی یہ ہیں ۔ ضمناً یہ بھی فرمایا کہ آریوں نے قرآن کریم کے نہ سمجھنے سے خَيْرُ الْمُكِرِينَ (آل عمران:۵۵) وغیرہ الفاظ پر اعتراض کیا ہے حالانکه خود وید میں اندر کو بڑا مکار لکھا ہے۔ پھر مہدی کی حدیثوں کی نسبت فرمایا کہ سلطنت کے خیال سے وضع کی گئی تھیں ۔ اے قرآن کے نام میں پیشگوئی فرمایا۔ اگر ہمارے پاس قرآن نہ ہوتا اور حدیثوں کے یہ مجموعے ہی مایہ ناز ایمان و اعتقاد ہوتے تو ہم قوموں کو شرمساری سے منہ بھی نہ دکھا سکتے ۔ میں نے قرآن کے لفظ میں غور کی۔ تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیش گوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۳