ملفوظات (جلد 2) — Page 8
ملفوظات حضرت مسیح موعود V جلد دوم خونریزی کرے گا اور یوں خلق خدا کے خون سے روئے زمین کو رنگین کرے گا۔ خدا جانے ان لوگوں کو جو ان احادیث کے وضاع تھے ۔ سفا کی کی کس قدر پیاس اور خلق خدا کی جان لینے کی کتنی بھوک تھی اور اس وقت عقلیں کسی قدر موٹی اور سطحی ہوگئیں تھیں۔ یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہ آئی کہ اصول تبلیغ اور ماموریت کے قطعاً خلاف ہے کہ کوئی مامور آتے ہی بلا اتمام حجت کے تیغ زنی شروع کر دے۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو آخری زمانہ کو حضرت خیر الا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اتنا ڈور قرار دیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جتنا بعد زمانہ نبوت سے ہوگا۔ اتنی ہی غفلت اور کسل اور اعراض عَنِ اللہ کا مرض شدید ہو گا ۔ بایں ہمہ آخری زمانہ کا مصلح اور مامور ایسا شخص قرار دیا ہے جو آتے ہی تلوار سے کام لے اور اتمام حجت کا ایک لفظ بھی منہ پر نہ لاوے۔ وہ مصلح کیا ہوا، وہ خونریز مفسد ہوا ۔ افسوس آتا ہے کہ اس قدر تناقضات کا مجموعہ وہ حدیثیں ہیں کہ اس سے زیادہ ہفوات اور لغویات میں بھی تناقض ممکن نہیں مگر ان لوگوں کی دانشیں ان کی بیہودگی کی تہ تک نہ جاسکیں۔ فرمایا۔ میں ان حدیثوں کو پڑھ کر کانپ اٹھا اور دل میں گزرا اور بڑے درد کے ساتھ گزرا کہ اگر اب خدا تعالیٰ خبر نہ لیتا اور یہ سلسلہ قائم نہ کرتا۔ جس نے اصل حقیقت سے خبر دینے کا ذمہ اٹھایا ہے تو یہ مجموعہ حدیثوں کا اور تھوڑے عرصہ کے بعد بے شمار مخلوق کو مرتد کر دیتا ۔ ان حدیثوں نے تو اسلام کی بیخ کنی اور خطر ناک ارتداد کی بنیاد رکھ دی ہوئی ہے۔ جبکہ حدیثیں یونہی نامراد رہتیں اور ان کی بے بنیاد پیش گوئیاں جو محض دروغ بے فروغ اور باطل افسانے ہیں اور کچھ مدت کے بعد آنے والی نسلوں کے سامنے اسی طرح نامراد پیش ہوتیں۔ تو صاف شک پڑ جاتا کہ اسلام بھی اور جھوٹے مہا بھارتی مذہبوں کی طرح نرا کتھوں پر مبنی اور بے سر و پا مذہب ہے۔ اور آئندہ نسلیں سخت ہنسی اور استہزا سے اس بات کے کہنے کا بڑی دلیری سے موقع پاتیں کہ دجال کو خدا بنانے والا اور خدا کی صفات کا ملہ مستجمعہ سے پورا حصہ دینے والا مذہب بھی کبھی مذہب حق اور مذہب تو حید کہلانے کا استحقاق رکھ سکتا ہے۔ لے الحکم جلد ۴ نمبر ۳۷ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۰ صفحه ۱ تا ۳