ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 128

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۸ جلد دوم قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مثیل موسی پیدا کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک سلسلہ پیدا کرتا ہے پھر جب اس سلسلہ پر ایک دراز عرصہ گزرنے کے بعد ایک قسم کا پردہ سا چھا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے بدلے میں اور سلسلہ اسی رنگ میں قائم کرتا ہے۔ قرآن شریف سے دو سلسلوں کا پتہ لگتا ہے۔ اول بنی اسرائیل کا سلسلہ جو موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت عیسی علیہ السلام پر ختم ہو گیا۔ چونکہ یہود کی بداعمالیاں حد تک پہنچ گئی تھیں اور اُن میں یہاں تک شقاوت اور سنگدلی پیدا ہوگئی تھی کہ وہ انبیاء کے قتل تک مستعد ہوئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے غضب کی راہ سے اس سلسلہ کو جس میں ملوک اور انبیاء تھے حضرت عیسی پر ختم کر دیا۔ میں ہمیشہ سے اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ مسیح کی بے باپ ولادت نشان ہے ری مین کے ہاں پیدا ہوئے تھے اور ان ت کا بے باپ پیدا ہونا ایک نشان تھا اس بات پر کہ اب بنی اسرائیل کے خاندان میں نبوت کا خاتمہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے ساتھ وعدہ تھا کہ بشرط تقوٹی نبوت بنی اسرائیل کے گھرانے سے ہوگی لیکن جب تقویٰ نہ رہا تو یہ نشان دیا گیا تا کہ دانش مند سمجھ لیں کہ اب آئندہ اس سلسلہ کا انقطاع ہوگا۔ غرض حضرت عیسی علیہ السلام پر بنی اسرائیل کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔ پہلی کتابوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ بنی اسماعیل میں بھی ایک سلسلہ اسی سلسلہ کا ہمرنگ پیدا ہوگا اور اس کے امام و پیشوا اور سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ توریت میں بھی یہ خبر دی گئی تھی۔ قرآن شریف نے بھی فرمایا علیہ ہوں میں یہ نے بھی كمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ( المزمل : ۱۶ ) جیسے تو ریت میں مانند کا لفظ تھا قرآن شریف میں کہا کا لفظ موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بالاتفاق مثیل موسی ہیں ۔ سورہ نور آنحضرت مثیل موسی یں میں میں بھی ذکر فرمایا گیا ہے کہ سلسلہ محمد یہ موسویہ سلسلہ کا مثیل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی انبیاء کا ذکر قرآن شریف نے نہیں کیا ۔ لَمْ نَقْصُصُ ( المؤمن : ۷۹ ) کہہ دیا۔ یہاں بھی سلسلہ محمد یہ میں درمیانی خلفاء کا نام نہیں