ملفوظات (جلد 2) — Page 129
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۹ جلد دوم لیا۔ جیسے وہاں ابتدا اور انتہا بتائی یہاں بھی یہ بتا دیا کہ ابتدا مثیل موسی سے ہوگی اور انتہا مثیل عیسی پر ۔ گو یا خاتم الخلفاء وہی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہتے ہیں ۔ موعود اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا وعدہ کیا گیا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ( النور : ۵۶) آیت استخلاف میں مسیح موعود کی پیشگوئی خلفاء کے قر کا جو وعدہ اللہ تعالی نے کیا تھا اسی وعدہ میں وہ خاتم الخلفاء بھی شامل ہے اور نص قرآنی سے ثابت ہوا کہ وہ موعود ہے۔ جو خط ایک نقطہ سے شروع ہو گا وہ ختم بھی نقطہ پر ہی ہوگا ۔ پس جیسے وہاں خاتم مسیح ہے یہاں بھی وہ خاتم الخلفاء ہے۔ اس لئے یہ اعتقاد اسی قسم کا ہے کہ اگر کوئی انکار کرے کہ اس امت میں مسیح موعود نہ ہو گا وہ قرآن سے انکار کرتا ہے اور اس کا ایمان جاتا رہے گا اور یہ بالکل واضح بات ہے اس میں تکلف اور تصنع اور بناوٹ کا نام نہیں ہے پھر جو شک وشبہ کرے وہ قرآن شریف کو چھوڑتا ہے۔ ہے۔ سورۃ فاتحہ میں منعمین کا ذکر اللہ تعالی نے اس کوکئی سورتوں میں بیان کر دیا ہے۔ اول تو یہی سورہ نور۔ دوسری سورہ فاتحہ جس کو ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں۔ اس سورۃ میں تین گزشتہ فرقے پیش کیے ہیں ۔ ایک وہ جو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق ہیں۔ دوسرے مغضوب، تیسرے ضالین مغضوب سے یہ مخصوصاً مراد نہیں کہ قیامت میں ہی غضب ہوگا کیونکہ جو کتاب اللہ کو چھوڑتا اور احکام الہی کی خلاف ورزی کرتا ہے ان سب پر غضب ہوگا مغضوب سے مراد بالاتفاق یہود ہیں اور الضَّالِّينَ سے نصاری ۔ اب اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ۔ منعم علیہ فرقہ میں داخل ہونے اور باقی دو سے بچنے کے لئے دعا ہے اور یہ سنت اللہ ٹھہری ہوئی ہے۔ جب سے نبوت کی بنیاد ڈالی گئی ہے خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کر رکھا ہے کہ جب وہ کسی قوم کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو بعض اس کی تعمیل کرنے والے اور بعض خلاف ورزی کرنے والے ضرور ہوتے ہیں ۔ پس بعض منعم علیہ، بعض مغضوب اور بعض ضالین ضرور ہوں گے۔ اب زمانه باآواز بلند کہتا ہے کہ اس سورہ شریف کے موافق ترتیب آخر سے شروع ہو گئی ہے۔