ملفوظات (جلد 2) — Page 127
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۷ جلد دوم ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء تقریر حضرت اقدس سب صاحب اس بات کوشن لیں بعثت مرسلین کے متعلق خدا تعالی کی ازلی سنت کہ چونکہ ہماری یہ سب کارروائی خدا ہی کے لیے ہے ۔ وہ اس غفلت کے زمانہ میں اپنی حجت پوری کرنی چاہتا ہے جیسے ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں ہوتا رہا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ زمین پر تاریکی پھیل گئی ہے تو وہ تقاضا کرتا ہے کہ لوگوں کو سمجھاوے اور قانون کے موافق حجت پوری کرے۔ اس لیے زمانہ میں جب حالات بدل جاتے ہیں اور خدا سے تعلق نہیں رہتا۔ سمجھ کم ہو جاتی ہے۔ اس وقت خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو مامور کر دیتا ہے تا کہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو سمجھائے اور یہی بڑا نشان اس کے مامور ہونے پر ہوتا ہے کہ وہ لغو طور پر نہیں آتا ہے بلکہ تمام ضرورتیں اس کے وجود پر شہادت دیتی ہیں ۔ جیسے ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا ۔ اعتقادی اور عملی حالت بالکل خراب ہوگئی تھی اور نہ صرف عرب کی بلکہ کل دنیا کی حالت بگڑ چکی تھی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الروم : (۴۲) اس فساد عظیم کے وقت خدا تعالیٰ نے اپنے کامل اور پاک بندہ کو مامور کر کے بھیجا جس کے سبب سے تھوڑی ہی مدت میں ایک عجیب تبدیلی واقع ہو گئی ۔ مخلوق پرستی کی بجائے خدا تعالیٰ پوجا گیا ۔ بداعمالیوں کی بجائے اعمالِ صالحہ نظر آنے لگے ۔ ایسا ہی اس زمانہ میں بھی دنیا کی اعتقادی اور عملی حالت بگڑ گئی ہے اور اندرونی اور بیرونی حالت انتہا تک خطرناک ہو گئی ہے۔ اندرونی حالت ایسی خراب ہو گئی ہے کہ قرآن تو پڑھتے ہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ کیا پڑھتے ہیں ۔ اعتقاد بھی کتاب اللہ کے برخلاف ہو گئے ہیں اور اعمال بھی۔ مولوی بھی قرآن کو پڑھتے ہیں اور عوام بھی مگر تدبر نہ کرنے میں دونوں برابر ہیں ۔ اگر غور کرتے تو بات کیسی صاف تھی ۔