ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 6

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶ جلد دوم و آن کلام اجلی و روشن می باشد ۔ نظیرش بیان فرمودند که مثلاً حافظ صاحب نا بینا که پیش ما نشسته اند۔ در سماع کلام ما ہرگز غلطی نمی خورند و نمی دانند که آواز مسموع کلام غیر ما باشد اگر چه از چشم ظاہر مارا نے بینند دیگر رویا و منام ست - که آن کلام را ن کلام رنگین م رنگین ولطیف و کنایه دارد و ذوی الوجه یه دارد و ذوی الوجوه است - چون دیدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار مین در دست مبارک خویش، یا معائنہ فرمودن یکی زوجہ مطهره خود را اطول يدين، و دیدن بقرہ وغیرہ ایں چنیں کلام الہی تعبیر طلب ست - سوم کشف است و آن تمثل است خواه بصورت جبرائیل باشد یا فرشته یا دیگر اشیاء ۔ پس آیت شریفہ خواندند آن يُكَلِمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا (الشورى : ۵۲) ۔ ارشاد شد که سوائے امور ثلاثہ مذکورہ کلام الہی را طریقے نیست لے ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۰ء کے وقت فرمایا۔ بیماری میں الہی مصالح طبیعت بہت علیل ہے دعا کرنی چاہیے۔ (بقیہ حاشیہ ) اور کلام اجلی اور روشن ہوتا ہے۔ اس کی مثال بیان فرمائی کہ مثلاً حافظ صاحب نابینا کہ ہمارے قریب بیٹھے ہیں ۔ ہمارے کلام کی سماعت میں ہرگز غلطی نہیں کھاتے اور نہیں جانتے کہ سنا جانے والا کلام ہمارا نہیں ہوگا ۔ اگر چہ چشم ظاہر سے ہم کو نہیں دیکھ رہے ہیں۔ دوسری قسم رویا اور خواب ہے کہ وہ کلام رنگین ولطیف اور کنار اور کنا یہ رکھتا ہے اور ذوالوجوہ ہوتا ہے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (خواب میں ) اپنے دست مبارک میں دو کنگن دیکھنا۔ یا معائنہ فرمانا اپنی ایک زوجہ مطہرہ کو اطول یدین یا گائے کو دیکھنا وغیرہ اس طرح کا کلام الہی تعبیر طلب ہوتا ہے۔ تیسری قسم کشف ہے کہ وہ مثل ہے خواہ حضرت جبرائیل کی شکل میں ہو یا فرشتہ یا دوسری اشیاء کی صورت میں ۔ پس آپ نے آیت شریف پڑھی ان يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا (الشورى : ۵۲) ارشاد فرمایا کہ کلام الہی کی ان تین مذکورہ امور کے علاوہ اور کوئی طریق نہیں ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۶