ملفوظات (جلد 2) — Page 5
ملفوظات حضرت مسیح موعود ♡ جلد دوم کرنا چاہیے۔ جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے مکہ معظمہ میں کیا۔ کوئی حرکت ان سے ایسی سرزد نہ ہوئی جو انہیں حکام تک پہنچاتی ۔ اس وقت کسی پر بھروسہ نہ کریں کہ فلاں شخص ہماری مدد کرے گا ۔ یادرکھیں اس وقت خداوند جل وعلا کے سوا کوئی ولی ونصیر نہیں ۔ لے ایک شخص کسی شیخ عبد الرحمن کشمیری بازار کا شائع ہوا لمبا چوڑا اولیاء اللہ سے جنگ کا نتیجہ اشتہار لے کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت اقدس نے اس پر فرمایا۔ اب ہماری باتیں ان لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتیں اور در حقیقت جب تک آسمان سے نور نازل ہو کر قلوب کو با فہم نہ بنائے کوئی نہ سمجھا سکتا ہے اور نہ کوئی سمجھ ہی سکتا ہے۔ یہ ایام ابتلا کے ایام ہیں۔ پھر فرمایا۔ کیا ہی سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کے اولیاء سے جنگ کرنے کے سبب سے نہ صرف ایمان ہی سلب ہو جاتا ہے بلکہ عقلیں بھی سلب ہو جاتی ہیں۔ اس وقت جو بولتا ہے۔ یہی بولتا ہے اور بیسیوں خط اطراف سے اس مضمون کے آتے ہیں کہ مہر شاہ نے مرزا صاحب کی ساری شرطیں منظور کر لیں پھر وہ مقابلہ کے لئے کیوں نہ آئے ۔ اللہ اللہ ایک طوفان بے تمیزی برپا ہے۔ کوئی غور کرتا ہی نہیں کہ اصل بات کیا ہے۔ ہے ۱۵ ستمبر ۱۹۰۰ء مطابق بیستم جمادی الاولی ۱۳۱۸ھ بعد اداء نماز مغرب شرف دیدار مبارک کلام الہی کی اقسام حضرت اقد حا گردید - فرمودند سے کلام الہی برسه قسم ست وحی ، رویا ، کشف ۔ وحی آنکه بلا واسطه مشخص بر قلب مطهره نبوی فرود آید ، الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۱۰ ( مکتوبات کریمیہ نمبر ۴) سے ( ترجمه از مرتب ) مطابق ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۱۸ ھ نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد حضرت اقدس کے دیدار مبارک کا شرف حاصل ہوا۔ آپ نے فرمایا۔ کلام الہی کی تین اقسام ہیں۔ وحی، رویا، کشف ۔ وہ وحی جو کسی شخص کے واسطہ کے بغیر قلب مطہرہ پر اترتی ہے۔