ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 55

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۵ جلد اول صداقت کسی خاص چیز پر منحصر ہو کہ اگر وہ نہ ہو تو اس کا پتہ ہی ندارد۔ قصہ کہانی کا نقش نہ دل میں ہوتا ہے، نہ صحیفہ فطرت میں جب تک کسی پنڈت، پاندھے یا پادری نے یا درکھا ان کا کوئی وجود مسلم رہا۔ زاں بعد حرف غلط کی طرح مٹ گیا۔ اللہ تعالیٰ تعلیم قرآن کی شہادت قانون قدرت کی زبان سے ادا ہوتی ہے فرماتا ہے إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ - فِي كِتَبٍ مَكْنُون - لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۷۸ تا ۸۰) بلکہ یہ سارا صحیفہ قدرت کے مضبوط صندوق میں محفوظ ہے۔ کیا مطلب کہ یہ قرآن کریم ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے۔ اس کا وجود کاغذوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے جس کو صحیفہ فطرت کہتے ہیں یعنی قرآن کی ساری تعلیم کی شہادت قانون قدرت کے ذرہ ذرہ کی زبان سے ادا ہوتی ہے۔ اس کی تعلیم اور اس کی برکات کتھا کہانی نہیں جو مٹ جائیں ۔ ہر ایک آدمی چونکہ عقل سے مدارج یقین پر نہیں پہنچ سکتا اس لئے الہام کی ضرورت الہام ضرورت پڑتی ہے جو تاریکی میں عقل کے لئے ایک روشن چراغ ہو کر مدد دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے فلاسفر بھی محض عقل پر بھروسہ کر کے حقیقی خدا کو نہ پاسکے۔ چنانچہ افلاطون جیسا فلاسفر بھی مرتے وقت کہنے لگا کہ میں ڈرتا ہوں ۔ ایک بت پر میرے لئے ایک مرغا ذبح کرو۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی ۔ افلاطون کی فلاسفی ، اس کی دانائی اور دانش مندی اس کو وہ سچی سکینت اور اطمینان نہیں دے سکی جو مومنوں کو حاصل ہے۔ یہ خوب یا درکھو کہ الہام کی ضرورت قلبی اطمینان اور دلی استقامت کے لئے اشد ضروری ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے عقل سے کام لو اور یہ یاد رکھو کہ جو عقل سے کام لے گا اسلام کا خدا اسے ضرور ہی نظر آ جائے گا۔ کیونکہ درختوں کے پتے پتے پر اور آسمان کے اجرام پر اس کا نام بڑے جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے۔ لیکن بالکل عقل کے ہی تابع نہ بن جاؤ تا کہ الہام الہی کی وقعت کو کھو بیٹھو جس کے بغیر نہ حقیقی تسلی اور نہ اخلاق فاضلہ نصیب ہو سکتے ہیں ۔ برہمو لوگ بھی شانتی اور سچا نور نجات کا حاصل نہیں کر سکتے