ملفوظات (جلد 1) — Page 56
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۶ جلد اول اس لئے کہ وہ الہام کی ضرورت کے قائل نہیں۔ ایسے لوگ جو عقل کے بندے ہو کر الہام کو فضول قرار دیتے ہیں میں بالکل ٹھیک کہتا ہوں کہ عقل سے بھی کام نہیں لیتے ۔ قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اُولُوا الأَلْبَابِ فرمایا ہے۔ پھر اس کے آگے فرماتا ہے الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ ۔۔۔۔ الآية (ال عمران : ۱۹۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اُولُوا الْأَلْبَاب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جل شانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔ یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ عقل و دانش ایسی چیزیں ہیں جو یونہی حاصل ہو سکتی ہیں نہیں ۔ سچی فراست بلکہ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہوسکتی ۔ اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نور الہی سے دیکھتا ہے۔ صحیح فراست اور حقیقی دانش جیسا میں نے ابھی کہا کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔ فکر کرو۔ سوچو۔ تدبر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تا کیدیں موجود ہیں ۔ کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پارسا طبع ہو جاؤ۔ جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هُذَا بَاطِلًا سُبْحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (ال عمران : ۱۹۲) تمہارے دل سے نکلے گا۔ اس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تا کہ طرح طرح کے علوم وفنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں ۔ نے صرف سے نہیں الہام کی روشنی خدائے تعالی نے مسلمانوں کو صرف عقل ہی کے عطیہ سے مشرف نہیں فرمایا بلکہ الہام کی روشنی اور نور بھی اس کے ساتھ مرحمت فرمایا ہے۔ انہیں ان راہوں پر نہیں چلنا چاہیے جو خشک منطقی اور فلاسفر چلانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر لسانی قوت غالب ہوتی ہے اور روحانی قومی بہت ضعیف ہوتے ہیں۔ دیکھو قرآن شریف میں خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کی