ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vi of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page vi

میں لکھا ہے اس مذکورہ بالا ترتیب میں سمجھا جانا چاہیے۔ یعنی سب سے اول نمبر پر تالیفات ، پھر مکتوبات اور اس کے بعد ملفوظات اور پھر روایات ۔ مگر جہاں تک جماعت کی تربیت کا سوال ہے ملفوظات کا مرتبہ ایک لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کی جملہ اقسام میں سے نمبر اول پر سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ یہ وہ کلام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے احباب اور متبعین کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا اور بیشتر طور پر ایسے حالات میں فرمایا کہ جب حضور کے مدنظر جماعت کی تعلیم و تربیت کا پہلو تھا۔ اس لئے جہاں تک تربیت اور اصلاح نفس کا تعلق ہے ملفوظات میں جملہ اقسام کے کلام کی نسبت سب سے بڑا ذخیرہ پایا جاتا ہے، چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب ”فتح اسلام میں اس طرز کلام کی اہمیت اور ضرورت پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے۔ فرماتے ہیں:۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زبانی تقریریں جو سائلین کے سوالات کے جواب میں کی گئیں یا کی جاتی ہیں یا اپنی طرف سے محل اور موقع کے مناسب کچھ بیان کیا جاتا ہے۔ یہ طریق بعض صورتوں میں تالیفات کی نسبت نہایت مفید اور مؤثر اور جلد تر دلوں میں بیٹھنے والا ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نبی اس طریق کو ملحوظ رکھتے رہے ہیں اور بجز خدا تعالیٰ کے کلام کے جو خاص طور پر بلکہ قلمبند ہو کر شائع کیا گیا باقی جس قدر مقالات انبیاء ہیں وہ اپنے اپنے محل پر تقریروں کی طرح پھیلتے رہے ہیں۔ عام قاعدہ نبیوں کا یہی تھا کہ ایک محل شناس لیکچرار کی طرح ضرورتوں کے وقتوں میں مختلف مجالس اور محافل میں ان کے حال کے مطابق روح سے قوت پا کر تقریریں کرتے تھے مگر نہ اس زمانہ کے متکلموں کی طرح کہ جن کو اپنی تقریر سے فقط اپنا علمی سرمایہ دکھلا نا منظور ہوتا ہے یا یہ غرض ہوتی ہے کہ انہیں اپنی جھوٹی منطق اور سوفسطائی حجتوں سے کسی سادہ لوح کو اپنے بیچ میں لاویں اور پھر اپنے سے زیادہ جہنم کے لائق کریں بلکہ انبیاء نہایت سادگی سے کلام کرتے اور جو اپنے دل سے اُبلتا تھا وہ دوسروں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔ ان کے کلمات قدسیہ عین محل اور حاجت کے وقت پر ہوتے تھے