ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 43

ملفوظات حضرت مسیح موعود لدالله جلد اول لکھا ہے کہ اس زمانہ میں چاروں طرف نہریں پھیل جاویں گی اور کتابیں کثرت سے اشاعت پاویں گی۔ غرض کہ یہ سب نشان اسی زمانہ کے متعلق تھے۔ مسیح موعود کی جائے ظہور اب رہا مکان کے متعلق سو یادر ہے کہ دجال کا خروج مشرق میں بتلایا گیا ہے۔ جس سے ہمارا ملک مراد ہے چنانچہ صاحب حجج الکرامہ نے لکھا ہے کہ فتن دجال کا ظہور ہندوستان میں ہو رہا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ظہور مسیح اسی جگہ ہو جہاں دجال ہو۔ پھر اس گاؤں کا نام قدعہ قرار دیا ہے جو قادیان کا مخفف ہے۔ یہ ممکن ہے کہ یمن کے علاقہ میں بھی اس نام کا کوئی گاؤں ہولیکن یادر ہے کہ یمن حجاز سے مشرق میں نہیں بلکہ جنوب میں ہے ۔ آخر اسی پنجاب میں ایک اور قادیان بھی تو لدھیانہ کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ خود قضاء وقدر نے اس عاجز کا نام جو رکھوایا ہے تو وہ بھی ایک لطیف اشارہ اس طرف رکھتا ہے۔ کیونکہ غلام احمد قادیانی کے عدد بحساب جمل پورے تیرہ سو (۱۳۰۰) نکلتے ہیں ۔ یعنی اس نام کا امام چودہویں صدی کے آغاز پر ہوگا۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اسی طرف تھا۔ حوادث بھی ایک علامت تھی ۔ حوادث سماوی نے قحط ، طاعون اور ہیضہ حوادث ارضی و سماوی کی صورت پکڑ لی۔ طاعون وہ خطرناک عذاب ہے کہ اس نے گورنمنٹ تک کو زلزلہ ڈال دیا اگر اس کا قدم بڑھ گیا تو ملک صاف ہو جاوے گا۔ ارضی حوادث لڑائیاں وزلازل تھے جنہوں نے ملک کو تباہ کیا۔ مامور من اللہ کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ وہ اپنے ثبوت میں آسمانی نشان دکھاوے۔ ایک لیکھرام کا نشان کیا کچھ کم نشان تھا۔ ایک گشتی کے طور پر کئی سال تک ایک شرط بھی رہی ۔ پانچ سال برابر جنگ ہوتا رہا۔ طرفین نے اشتہار دیئے ۔ عام شہرت ہو گئی ، ایسی شہرت کہ جس کی مثال بھی محال ہو ۔ پھر ایسا ہی واقعہ ہوا جیسے کہ کہا گیا کیا اس واقعہ کی کوئی اور نظیر ہے؟ دھرم مہوتسو کے متعلق بھی کئی دن پہلے اعلان کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ ہمارا مضمون سب پر غالب رہے گا ۔ جن لوگوں نے اس عظیم ا نظیم الشان اور پر رعب جلسہ کو دیکھا ہے وہ خود غور کر سکتے ہیں کہ ایسے جلسہ میں غلبہ پانے کی خبر پیش از وقت