ملفوظات (جلد 1) — Page 44
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد لد جلد اول دے دینی کوئی اٹکل یا قیاس نہ تھا۔ پھر آخر کار وہی ہوا جیسے کہا گیا ۔ وَآخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - ۲۸ دسمبر ۱۸۹۷ء (بعد نماز ظهر) حضرت اقدس کی دوسری تقریر بر موقع جلسه سالانه حضور نے فرمایا۔ ہر ایک شخص سفر آخرت کی تیاری رکھے اس وقت میری فرض بیان کرنے سے یہ ہے کہ چونکہ انسانی زندگی کا کچھ بھی اعتبار نہیں ۔ اس لئے جس قدر احباب اس وقت میرے پاس جمع ہیں میں خیال کرتا ہوں شاید آئندہ سال سب جمع نہ ہو سکیں اور انہیں دنوں میں میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ اگلے سال بعض احباب دنیا میں نہ ہوں گے۔ گو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کشف کا مصداق کون کون احباب ہوں گے اور میں جانتا ہوں کہ یہ اس لئے ہے تا ہر ایک شخص بجائے خود سفر آخرت کی طیاری رکھے ۔ جیسا میں نے ابھی کہا مجھے کسی کا نام نہیں بتلایا گیا لیکن یہ میں اللہ تعالیٰ کے اعلام سے خوب جانتا ہوں کہ قضاء و قدر کا ایک وقت ہے اور ضرور ایک وقت اس فانی دنیا کو چھوڑنا ہے اس لئے یہ کہنا بہت ضروری پڑا ہوا ہے کہ ہر شخص اور ہر دوست جو اس وقت موجود ہے وہ میری باتوں کو قصہ گو کی داستان کی طرح نہ سمجھے ۔ بلکہ یہ ایک واعظ مِنْ جَانِبِ اللهِ اور مَامُور مِنَ اللهِ ہے جو نہایت خیر خواہی اور سچی بھلائی اور پوری دلسوزی سے باتیں کرتا ہے ۔ پس میں اپنے دوستوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ خوب یا درکھو۔ اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان میں پھر کہتا ہوں کہ دل سے سنو اور دل میں جگہ دو کہ اللہ جیسا لے رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ، صفحہ ۳۳ تا ۶۱ مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی