ملفوظات (جلد 1) — Page 42
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲ جلد اول مسیح موعود کی تائید میں آفاقی نشانات ایک یہ بھی نشان آنے والا کا ہے کہ اس زمانہ میں رمضان میں کسوف خسوف ہوگا۔ خدا کے نشان سے ٹھٹھا کرنے والا خدا سے ٹھٹھا کرتا ہے۔ کسوف خسوف کا اس کے دعوی کے بعد ہونا یہ ایک ایسا امر تھا جو افترا اور بناوٹ سے بعید تر ہے ۔ اس سے پہلے کوئی کسوف خسوف ایسا نہ ہوا۔ یہ ایک ایسا نشان تھا کہ جس سے اللہ تعالیٰ کو کل دنیا میں آنے والے کی منادی کرنی تھی چنانچہ اہلِ عرب نے بھی اس نشان کو دیکھ کر اپنے مذاق کے مطابق درست کہا۔ ہمارے اشتہارات بطور منادی جہاں جہاں نہ پہنچ سکتے تھے وہاں وہاں اس کسوف خسوف نے آنے والے کے وقت کی منادی کر دی ۔ یہ خدا کا نشان تھا جو انسانی منصوبوں سے بالکل پاک تھا۔ خواہ کوئی کیسا ہی فلسفی ہو وہ غور کرے اور سوچے کہ جب مقرر کردہ نشان ہو گیا تو ضرور ہے کہ اس کا مصداق بھی کہیں ہو۔ یہ امر ایسا نہ تھا جو کسی حساب کے ماتحت ہو۔ جیسے کہ فرمایا تھا کہ یہ اس وقت ہوگا جب کوئی مدعی مہدویت ہو چکے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ آدم سے لے کر اس مہدی تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ۔ اگر کوئی تاریخ سے ایسا ثابت کر سکے تو ہم مان لیں گے۔ ایک نشان یہ بھی تھا کہ اس وقت ذو السنین ستارہ طلوع کرے گا۔ یعنی ان برسوں کا ستارہ جو پہلے گزر چکے ہیں۔ یعنی وہ ستارہ جو مسیح ناصری کے ایام ( برسوں) میں طلوع ہوا تھا اب وہ ستارہ بھی چڑھ گیا جس نے یہودیوں کے مسیح کی اطلاع آسمانی طور سے دی تھی۔ اسی طرح قرآن کے دیکھنے سے بھی پتہ لگتا ہے وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتْ وَ إِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ وَ إِذَا الْبِحَارُ سُجِرَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ وَ إِذَا الْمَوْعِدَةُ سُبِلَتْ بِأَتِي ذَنْبٍ قُتِلَتْ وَ إِذَا الصُّحُفُ نُشِرَت (التکویر : ۵ تا ۱۱) یعنی اس زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہو جاویں گی ۔ اعلیٰ درجہ کی سواری اور بار برداری جن سے ایام سابقہ میں ہوا کرتی تھی۔ یعنی اس زمانہ میں سواری کا انتظام کوئی ایسا پیدا ہوگا کہ یہ سواریاں بیکار ہو جاویں گی۔ اس سے ریل کا زمانہ مراد تھا۔ وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ ان آیات کو تعلق قیامت سے ہے وہ نہیں سوچتے کہ قیامت میں اونٹنیاں حمل دار کیسے رہ سکتی ہیں، کیونکہ عشار سے مراد حمل دار اونٹنیاں ہیں۔ پھر