ملفوظات (جلد 1) — Page 500
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۰ جلد اول جب تک اسی عارضی حیات دنیا کی سوزش اور جلن دور ہو کر ایمان میں ایک لذت اور روح میں ایک سکینت اور استراحت پیدا نہ ہو۔ یقیناً سمجھو کہ جب تک انسان اس حالت تک نہ پہنچے ایمان کامل اور ٹھیک نہیں ہوتا۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ تو عبادت کرتا رہ جب تک کہ تجھے یقین کامل کا مرتبہ حاصل نہ ہو اور تمام حجاب اور ظلماتی پر دے دور ہو کر یہ سمجھ میں آجاوے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا بلکہ اب تو نیا ملک نئی زمین، نیا آسمان ہے اور میں بھی کوئی نئی مخلوق ہوں ۔ یہ حیات ثانی وہی ہے جس کو صوفی بقا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جب انسان اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی روح کا نفخ اس میں ہوتا ہے۔ ملائکہ کا اس پر نزول ہوتا ہے۔ یہی وہ راز تھا جس پر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا کہ اگر کوئی چاہے کہ مردہ میت کو زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو وہ ابو بکر کو دیکھے۔ اور ابو بکر کا درجہ اس کے ظاہری اعمال سے ہی نہیں بلکہ اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ یاد رکھو۔ ایمان ایک راز ہوتا ہے جو مومن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایمان ایک راز ہے ہوتا ہے اور جس کو خلوق میں سے اس مومن کے سوا دوسرا نہیں جان سکتا سے بہرہ ور أَنَا عِنْدَ ظَنِ عَبْدِی بی کی حقیقت یہی ہے ۔ بعض اوقات وہ لوگ جو علوم حقہ اور معارف الہیہ ہ ور نہیں ہوتے کسی مومن کے ان تعلقات کے عدم علم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کو ہوتے ہیں اس کی بعض حالتوں مثلاً معاملات رزق و معاش پر حیرت اور تعجب ظاہر کرتے ہیں اور کبھی یہ تعجب ان کو بدظنی اور گمراہی تک لے جاتا ہے اس لیے کہ ان کی نظر اپنے ہی محدود اسباب تک ہوتی ہے اور وہ اس راز اور ستر سے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ رکھتا ہے نا واقف ہوتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے اس راز کو ایسا بنا ئیں جو صحابہ کرام کا تھا۔ اللہ تعالی کی راہ میں زندگی وقف کریں غرض یہ ہے کہ انسان کو ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف کرے۔