ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 499 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 499

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۹ جلد اول میں یہاں ایک ضروری امر بیان انبیاء علیہم السلام کوضرورتیں کیوں لاحق ہوتی ہیں ان میں ای مورد علایم استان کرنا چاہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کو ضرورتیں کیوں لاحق ہوتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اُن کو کوئی ضرورت پیش نہ آوے اور مگر یہ ضرورتیں اس لیے لاحق ہوتی ہیں تاکہ للہی وقف کے نمونے مثال کے طور پر قائم ہوں ۔ ابوبکر کی زندگی کا وقف ثابت ہو اور دنیا میں خدائے مقتدر کی ہستی پر ایمان پیدا ہوا اور ایسے للبی وقف کرنے والے دنیا کے لیے بطور آیات اللہ کے ٹھیریں اور اس مخفی محبت اور لذت پر دنیا کو اطلاع ملے جس کے سامنے مال و دولت جیسی محبوب و مرغوب شے بھی آسانی اور خوشی کے ساتھ قربان ہو سکتی الله ہے اور پھر مال و دولت کے خرچ کے بعد الہی وقف کو مکمل کرنے کے واسطے وہ قوت اور شجاعت ملے که انسان جان جیسی شے کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دینے میں دریغ نہ کرے۔ غرض انبیاء علیہم السلام کی ضرورتوں کی اصل غرض دنیا کی جھوٹی محبتوں اور فانی چیزوں سے منہ موڑنے کی تعلیم دینے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لذیذ ایمان پیدا کرنے اور ابنائے جنس کی بہتری اور خیر خواہی کے لیے ایثار کی قوت پیدا کرنے کے واسطے ہوتا ہے ورنہ یہ پاک گروہ خَزَائِنُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کے مالک کی نظر میں چلتا ہے۔ ان کو کسی چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ وہ ضرورتیں تعلیم کو کامل اور انسان کے اخلاق اور ایمان کے رسوخ کے لیے پیش آتی ہیں ۔ کے یقین کا کامل مرتبہ مفسر کہتے ہیں کہ یقین سے مراد موت ہے مگر موت روحانی مراد ہے اور یہ ظاہری بات ہے کہ اس کا مقصود بالذات کیا ہو جس کی تلاش کرنے کے لئے یہاں ایما اور اشارہ ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ وہ روحانی موت ہو یا تمہاری زندگی خدا ہی کی راہ میں وقف ہو۔ مومن کو لازم ہے کہ اس وقت تک عبادت سے نہ تھکے اور شست نہ ہو۔ جب تک یہ جھوٹی زندگی بھسم نہ ہو جاوے اور اس کی جگہ نئی زندگی جو ابدی اور راحت بخش زندگی ہے اس کا سلسلہ شروع نہ ہو جاوے اور الحکم جلد ۴ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۰ صفحه ۳، ۴