ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 501 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 501

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۱ جلد اول میں نے بعض اخبارات میں پڑھا ہے کہ فلاں آریہ نے اپنی زندگی آریہ سماج کے لیے وقف کر دی ہے اور فلاں پادری نے اپنی عمر مشن کو دے دی ہے۔ مجھے حیرت آتی ہے کہ کیوں مسلمان اسلام کی خدمت کے لیے اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف نہیں کر دیتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ پر نظر کر کے دیکھیں تو ان کو معلوم ہو کہ کس طرح اسلام کی زندگی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی جاتی تھیں ۔ یا درکھو یہ خسارہ کا سودا نہیں ہے بلکہ بے قیاس نفع کا سودا ہے۔ کاش مسلمانوں کو معلوم ہوتا اور اس تجارت کے مفاد اور منافع پر ان کو اطلاع ملتی جو خدا کے لیے اس کے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرتا ہے۔ کیا وہ اپنی زندگی کھوتا ہے؟ ہرگز نہیں فلة أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرۃ: ۱۳) اس لبی وقف کا اجر ان کا رب دینے والا ہے ۔ یہ وقف ہر قسم کے ہموم و عموم سے نجات اور رہائی بخشنے والا ہے۔ - مجھے تو تعجب ہوتا ہے کہ جبکہ ہر ایک انسان بالطبع راحت اور آسائش چاہتا ہے اور ہموم و عموم اور کرب و افکار سے خواستگار نجات ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جب اس کو ایک مجرب نسخہ اس مرض کا پیش کیا جاوے تو اس پر توجہ ہی نہ کرے۔ کیا للہی وقف کا نسخہ ۱۳۰۰ برس سے مجرب ثابت نہیں ہوا؟ کیا صحابہ کرام اسی وقف کی وجہ سے حیات طیبہ کے وارث اور ابدی زندگی کے مستحق نہیں ٹھیرے؟ پھر اب کون سی وجہ ہے کہ اس نسخہ کی تاثیر سے فائدہ اٹھانے میں دریغ کیا جاوے۔ بات یہی ہے کہ لوگ اس حقیقت سے نا آشنا اور اس لذت سے جو اس وقف کے بعد ملتی ہے نا واقف محض ہیں ورنہ اگر ایک شمہ بھی اس لذت اور سرور سے ان کو مل جاوے تو بے انتہا تمناؤں کے ساتھ وہ اس میدان میں آئیں۔ میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے اپنا ذاتی تجربہ اور وصیت فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذت سے خاطر ۔ اس ۔ سے حظ اٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لیے اگر مر کے پھر زندہ ہوں