ملفوظات (جلد 1) — Page 498
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۸ جلد اول شریعت کا انحصار دو ہی باتوں پر ہے۔ تعظیم لأمر اللہ اور شفقت على خلق الله - پس مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنفِقُونَ میں شفقت علی خلق اللہ کی تعلیم ہے۔ دینی خدمات کے لئے متمول لوگوں کو بڑے بڑے موقعے مل جاتے ہیں ۔ ایک دفعہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روپیہ کی ضرورت بتلائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر کا کل اثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے ۔ آپؐ نے پوچھا ابو بکر ! گھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب میں کہا کہ اللہ اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نصف لے آئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پوچھا۔ عمر ! گھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب دیا کہ نصف ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر و عمر کے فعلوں میں جو فرق ہے وہی اُن کے مراتب میں فرق ہے۔ دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔ اسی واسطے علم تعبیر الرویا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مُراد مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقا اور ایمان کے حصول کے لیے فرمایا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: ۹۳) حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک کہ تم عزیز ترین چیز خرچ نہ کرو گے کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق الہی کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے جس کے بڑوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔ جب تک انسان ایثار نہ کرے۔ دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔ دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثار ضروری شے ہے اور اس آیت کن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔ پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں للہی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے ۔