ملفوظات (جلد 1) — Page 474
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۴ جلد اول انسان کے ماتحت نہ ہو۔ جو تخم ریزی ، آبپاشی ، ملائی کے تمام مر حلے طے کر چکا ہو۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرشد کامل کی ضرورت انسان کو ہے۔ مرشد کامل کے بغیر انسان کا عبادت کرنا اسی رنگ کا ہے جیسے ایک نادان و نا واقف بچہ ایک کھیت میں بیٹھا ہوا اصل پودوں کو کاٹ رہا ہے اور اپنے خیال وہ سمجھتا ہے کہ وہ گوڈی کر رہا ہے۔ یہ گمان ہرگز نہ کرو کہ عبادت خود ہی آجاوے گی ۔ نہیں جب تک رسول نہ سکھلائے انقطاع الی اللہ اور تبتل تام کی راہیں حاصل نہیں ہو سکتیں ۔ پھر طبعاً سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام کیونکر حل ہو؟ اس کا علاج خود ہی استغفار اور تو به جلا یا آن استغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ (هود: ۴) یادرکھو کہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں ۔ ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے، دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے ۔ قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اُٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے اسی طرح پر روحانی مگدر استغفار ہے اس کے ساتھ روح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔ غفر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔ استغفار سے انسان اُن جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے جو خدا تعالیٰ سے روکتے ہیں۔ پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کر کے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اُن پر غالب آوے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھے ہیں۔ ایک سمی مادہ ہے جس کا موکل شیطان ہے اور دوسرا تریاقی مادہ ہے۔ جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مدد نہیں لیتا تو سمی قوت غالب آجاتی ہے لیکن جب اپنے تئیں ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اس کی روح گداز ہو کر بہہ نکلتی ہے۔ اور یہی استغفار کے معنی ہیں۔