ملفوظات (جلد 1) — Page 475
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۵ جلد اول یعنی یہ کہ اس قوت کو پا کر زہریلے مواد پر غالب آجاوے۔ غرض اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت پر یوں قائم رہو۔ اوّل ۔ رسول کی اطاعت کرو۔ دوسرے ہر وقت خدا سے مدد چاہو ۔ ہاں پہلے اپنے رب سے مدد چاہو ۔ جب قوت مل گئی تو تُوبُوا إِلَيْهِ یعنی خدا کی طرف رجوع کرو۔ استغفار اور توبہ دو چیزیں ہیں ۔ ایک وجہ سے استغفار استغفار کو تو بہ پر تقدم حاصل ہے کو توبہ پر تقدم ہے۔ کیونکہ استغفار م اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔ عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی جس کا نام تُوبُوا إِلَيْهِ ہے اس لئے طبعی طور پر بھی یہی ترتیب ہے ۔ غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمداد چاہے۔ سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا کیا کر سکے گا ؟ توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے۔ اگر استغفار نہ ہو تو یقیناً یا د رکھو کہ تو بہ کی قوت مر جاتی ہے۔ پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر تو بہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہوگا يُمَتِّعُكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى (هود: (۴) سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پا لو گے۔ ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔ ہر ایک آدمی نبی ، رسول ، صدیق ، شہید نہیں ہو سکتا۔ غرض اس میں شک نہیں کہ تفاضل درجات امر حق ہے۔ اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان امور پر مواظبت کرنے سے ہر ایک سالک اپنی اپنی استعداد کے موافق درجات اور مراتب کو پالے گا۔ یہی مطلب ہے اس آیت کا وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْله (هود: ۴) لیکن اگر زیادت لے کر آیا ہے تو خدا تعالیٰ اس مجاہدہ میں اس کو زیادت دے دے گا اور اپنے فضل کو پالے گا جو طبعی طور پر اس کا حق ہے۔ ذی الفضل کی اضافت ملکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا محروم نہ رکھے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میاں ہم نے ولی بننا ہے؟ جو ایسا کہتے ہیں وہ دنی الطبع کافر ہیں ۔ انسان