ملفوظات (جلد 1) — Page 473
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۳ جلد اول بڑی بشارتیں ہیں۔ کیونکہ میں بشیر ہوں اور اگر رڈ کرتے ہو تو یا د رکھو کہ میں نذیر ہو کر آیا ہوں۔ پھر تم کو بڑی بڑی عقوبتوں اور دُکھوں کا سامنا ہوگا۔ بہشت اور جہنم اصل بات یہ ہے کہ بہشتی زندگی اس دنیا سے شروع ہو جاتی ہے اور اس طرح پر اور جو خدا اور سے الگ کر کورانہ زیست جو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول سے بالکل الگ ہو کر بسر کی جائے جہنمی زندگی کا نمونہ ہے اور وہ بہشت جو مرنے کے بعد ملے گا اسی بہشت کا اصل ہے اور اسی لیے تو بہشتی لوگ نعماء جنت کے حظ اٹھاتے وقت کہیں گے هذا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ (البقرة : ٢٦) دنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے وہ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس : ۱۰) پر عمل کرنے سے ملتا ہے ۔ جب انسان عبادت کا اصل مفہوم اور مغز حاصل کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے انعام واکرام کا پاک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مردن ظاہری ۔ مرئی اور محسوس طور پر ملیں گی وہ اب روحانی طور پر پاتا ہے۔ پس یا درکھو کہ جب تک بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع نہ ہو اور اس عالم میں اُس کا حظ نہ اُٹھاؤ اُس وقت تک سیر نہ ہو اور تسلی نہ پکڑو کیونکہ وہ جو اس دنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنت کی اُمید کرتا ہے وہ طمع خام کرتا ہے۔ اصل میں وہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعلى (بنی اسراءیل : ۷۳) کا مصداق ہے۔ اس لیے جب تک ماسوی اللہ کے کنکر اور سنگ ریزے زمین دل سے دور نہ کر لو اور اُسے آئینہ کی طرح مصفا اور سرمہ کی طرح باریک نہ بنالو صبر نہ کرو۔ مُرشد کامل کی ضرورت ہاں یہ یہ ہے کہ انسان کی مز کی الف کی امداد کے بغیر اس سلوک کی منزل منزل کو طے نہیں کر سکتا ۔ اسی لیے اس کے انتظام وانصرام کے لئے اللہ تعالیٰ نے کامل نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا اور پھر ہمیشہ کے لئے آپ کے سچے جانشینوں کا سلسلہ جاری فرمایا تا کہ نا عاقبت اندیش برہموؤں کا رد ہو۔ جیسے یہ امر ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ جو کسان کا بچہ نہیں ہے ملائی ( گوڈی دینے) کے وقت اصل درخت کو کاٹ دے گا۔ اسی طرح پر یہ زمینداری جو روحانی زمینداری ہے کامل طور پر کوئی نہیں کر سکتا جب تک کسی کامل