ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 472

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۲ جلد اول کرو۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ( الثريات : ۵۷) عبادت کی حقیقت عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت کبھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر ، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو اس کا نام عبادت ہے چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اُس میں پیدا ہو کر نشو و نما پائیں گے اور وہ اثمار شیریں وطیب ان میں لگیں گے جو اُكُلُهَا دَائِم (الرعد: ۳۶) کے مصداق ہوں گے۔ یاد رکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔ جب سالک یہاں پہنچتا ہے تو خدا ہی خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔ اس کا دل عرش الہی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پر نزول فرماتا ہے۔ سلوک کی تمام منزلیں یہاں آکر ختم ہو جاتی ہیں کہ انسان کی حالت تعبد درست ہو جس میں روحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے۔ اسی مقام پر پہنچ کر انسان دنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی هُذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ أَتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا (البقرة :۲۶) کہنے کا حظ اور لطف اُٹھاتا ہے۔ غرض حالت تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے۔ پھر فرمایا نَنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (هود:۳) چونکہ یہ تعبد تام کا عظیم الشان کام انسان بڑوں کسی اسوۂ حسنہ اور نمونہ کاملہ کے اور کسی قوت قدسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کر سکتا تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر ہو کر آیا ہوں اگر میری اطاعت کرو گے اور مجھے قبول کرو گے تو تمہارے لیے بڑی