ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 471

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۱ جلد اول بتلاؤ کیا پایا؟ مردوں کو پوجتے پوجتے خود مُردہ ہو گئے۔ نہ مذہب میں زندگی کی روح رہی نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔ اول سے لے کر آخر تک مردوں ہی کا مجمع ہو گیا۔ اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔ اسلام کا خداحتی و قیوم خدا ہے ۔ پھر وہ اسلام کاحتی و قیوم خدا سے پیار کیں کرنے لگا۔ یونی وی و او را با مردوں کو مردوں سے پیار کیوں کرنے لگا۔ وہ حی و قیوم خدا تو بار بار مردوں کو جلاتا ہے ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید: ۱۸) تو کیا مردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے؟ نہیں ، ہر گز نہیں ۔ اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حی و قیوم خدا نے إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ (الحجر : ۱۰) کہہ کر اُٹھایا ہوا ہے ۔ پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے۔ یاد رکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں ۔ قرآن کریم کی تفصیل پھر فرمایا تم فضلت (هود: ۲) ایک تو وہ تفصیل ہے جو قرآن کریم میں ہے۔ دوسری یہ کہ قرآن کریم کے معارف و حقائق کے اظہار کا سلسلہ قیامت تک دراز کیا گیا ہے۔ ہر زمانے میں نئے معارف اور اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔ فلسفی اپنے رنگ میں ، طبیب اپنے مذاق پر صوفی اپنے طرز پر بیان کرتے ہیں اور پھر یہ تفصیل بھی حکیم و خبیر خدا نے رکھی ہے۔ حکیم اس کو کہتے ہیں کہ جن چیزوں کا علم مطلوب ہو وہ کامل طور پر ہوا اور پھر عمل بھی کامل ہو۔ ایسا کہ ہر ایک چیز کو اپنے اپنے محل و موقع پر رکھ سکے ۔ حکمت کے معنی وَضْعُ الشَّيْء في محلہ اور خبیر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی ایسا وسیع علم کہ کوئی چیز اس کی خبر سے باہر نہیں چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مجید کو خاتم الکتب ٹھہرایا تھا اور اس کا زمانہ قیامت تک دراز تھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر تعلیمیں ذہن نشین کرنی چاہئیں چنانچہ اسی کے مطابق تفاصیل کی ہیں۔ پھر اس کا سلسلہ جاری رکھا کہ جو مجدد و مصلح احیاء دین کے لئے آتے ہیں وہ خود مفصل آتے ہیں۔ اس کے بعد ایک عجیب بات سوال مقدر کے جواب کے طور قرآن کریم کا خلاصہ اور مغز پر بیان کی گئی ہے یعنی اس قدر تفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے اَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا الله (هود: (۳) خدا تعالیٰ کے سوا ہرگز ہرگز کسی کی پرستش نہ