ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 407

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۰۷ جلد اول مگا مار دو تو یہ گناہ ہے۔ یہ افراط ہے اور تفریط یہ ہے کہ اگر کسی کو ایک پیالہ پانی دینے کی ضرورت ہو مگر وہ اس کو ایک قطرہ دے۔ غرض موجودہ زمانہ میں دجال کا بروز ایک معجون مرکب ہے۔ ایک حملہ خدا پر ہو رہا ہے اور ایک نبوت پر ۔ ایک خدا کو انسان بناتا ہے دوسرا آپ ہی خدا بنتا ہے؟ کیا یہ بات سچ نہیں ہے۔ کتابیں دیکھو، دیکھو، اخبارات پڑھو تو پتہ لگے گا کہ کس قدر فساد برپا ہو رہا ہے۔ اور یہ دورنگی ظلم ڈھا رہی ۔ اد ہے۔ یا جوج ماجوج کے فساد کی نسبت میں نے بتا دیا ہے کہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے ۔ اس کو شوکت ہے۔ خدا کی طرف رجوع کرنا ، امانت دیانت کا اختیار کرنا ، شراب، زنا، بدنظری، قمار بازی سے بچنا مشکل ہو رہا ہے۔ بہت ہی تھوڑے شاید ایک آدمی فی ہزار ہو تو ہو جو بچتے ہوں گے۔ نیکی کے دو بروز اب یہ بات کیسی صاف ہے کہ جبکہ بدی کے دو بروز تھے ایسا ہی نیکی کے ہی کے دو بروز بھی دو بروز بدی کے مقابل ضروری تھے چنانچہ دو روز نیکی کے بھی رکھے۔ دراصل وہ بھی ایک ہی چیز ہے جس کے دو نام ہیں۔ جیسے ایک ہی حالت میں مجسٹریٹ اور کلکٹر دوجد جدا گانہ عہدے ہوتے ہیں۔ وہ نیکی کے بروز یہ ہیں کہ ایک تو اندرونی لحاظ سے ہے اور دوسرا بیرونی لحاظ سے ۔ اندرونی لحاظ سے وہ مہدی ہے اور بیرونی لحاظ سے مسیح ابن مریم ۔ بیرونی طور پر مسیح کا کام کیا ہے جو اس کا یہ نام رکھا ؟ مسیح ابن مریم کا کام دفع شر سیح بن مریم ہوگا ور مہدی کا کام بغیر پانچ خود کروکین کا کام يَقْتُلُ الْخِنزیر اور یکسر الصَّليب بتایا ہے یہی دفع شر ہے لیکن ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں ہے کہ وہ دفع شر کے لیے تیغ وسنان لے کر جنگ کے واسطے نکلے گا۔ علماء جو یہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ کرے گا یہ صحیح نہیں بلکہ بالکل غلط ہے۔ یہ کیا اصلاح ہوئی کہ ابھی آپ آئے اور آتے ہی تلوار پکڑ کر لڑائی کے واسطے میدان میں نکل آئے ۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ صحیح اور سچی بات وہی ہے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر کھولی جو احادیث کے منشا کے موافق ہے کہ مسیح کوئی خونی جنگ نہ کرے گا اور نہ تلوار پکڑ کر لڑنا اس کا منصب ہے بلکہ وہ تو اصلاح کے لیے آئے گا۔ ہاں یہ ہم مانتے ہیں کہ اس کا کام دفع شر ہے اور وہ حج اور براہین سے کرے گا۔