ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 406

ملفوظات حضرت مسیح موعود وہاں خیالات بھی بہت ابتر نہیں ہوئے۔ ۴۰۶ جلد اول برائی کے دو بروز ۔ دجال اور یا جوج و ماجوج اب میں پھر اصل مطلب کی طرف آتا ہوں۔ میں نے یہ بیان کیا ہے کہ دو بروز ہیں ایک اللہ جال کا دوسرا یا جوج ماجوج کا ۔ اللہ مجال کا بروز وہ ہے جو آدم علیہ السلام سے لے کر ایک سلسلہ چلا جاتا تھا۔ جس قسم کی بدیاں اور شرارتیں مختلف طور پر مختلف وقتوں میں ظاہر ہوئیں آج ان سب کو جمع کر دیا گیا ہے اور ایک عجیب نظارہ قدرت دکھایا ہے۔ چونکہ اب انسانی عمروں کا خاتمہ ہے اس لیے خاتمہ پر ایک بدیوں کا اور ایک نیکیوں کا بروز بھی دکھایا۔ بدیوں کا بروز وہی ہے جس کو میں نے اللہ مجال کہا ہے۔ تمام مکا ئد اور شراتوں کا وہ مجموعہ ہے۔ اس آخری زمانہ میں ایک گروہ کو سفلی عقل اس قدر دی گئی ہے کہ تمام چھپی ہوئی چیزیں پیدا ہو گئی ہیں۔ اس نے دو قسم کا دجل دکھایا۔ ایک قسم کا حملہ نبوت پر کیا اور ایک خدا پر ۔ نبوت پر تو یہ حملہ تھا کہ منشاء الہی کو بگاڑا اور دماغی طاقتوں کو انتہائی مدارج پر پہنچا کر الوہیت پر تصرف کرنے کے لیے خدا پر حملہ کیا۔ امراض مزمنہ کے علاج کی طرف توجہ اور ایک کا نطفہ لے کر رحم میں بذریعہ گل ڈالنا۔ بارش برسانے کے آلات کا ایجاد کرنا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سب امور اس قسم کے ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ الوہیت پر تصرف کرنا چاہتے ہیں۔ یہ گروہ خود خدا بن رہا ہے اور دوسرا گر وہ کسی اور انسان کو خدا بناتا ہے۔ جو کچھ آج کل یورپ اور امریکہ میں ہو رہا ہے اس کی غرض کیا ہے؟ یہی کہ ایک آزادی اور حرص جو پیدا ہوگئی ہے اس کو پورے طور پر کام میں لاکر ربوبیت کے بھیدوں کو معلوم کر کے خدا سے آزاد ہو جاویں۔ غرض جان ڈالنے کے، مردوں کو زندہ کرنے کے، بارش برسانے کے تجربے کرتے ہیں۔ یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ ان کی تو کوشش یہ ہو رہی ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب ہمارے ہی قبضہ میں آجاوے۔ اگر چہ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ تدبیر کرنا منع نہیں ہے لیکن یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ گناہ ہمیشہ افراط یا تفریط سے پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر انسان کو صرف ہاتھ لگا دو تو گناہ نہیں ہے لیکن اگر اس کو ایک