ملفوظات (جلد 1) — Page 392
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۲ جلد اول الْحَمْدُ لِلهِ اسی وقت کہہ سکتا ہے کہ پورے طور پر اس کو یقین ہو جائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔ جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہوگئی تو یہ روحانی قیام ہے۔ کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے اور وہ سمجھا جاتا ہے کہ کھڑا ہے ۔ حال کے موافق کھڑا ہو گیا تا کہ روحانی قیام نصیب ہو۔ پھر رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِیم کہتا ہے ۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اس کے حضور جھکتے ہیں۔ عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے رکوع کرے۔ ! پس سُبْحَانَ ربي العظيم زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھایا۔ یہ اُس قول کے ساتھ حال دکھایا۔ پھر تیسرا قول ہے سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلى - اَعْلَى أَفْعَلُ التفضيل ہے۔ یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے۔ اس لیے اُس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرے گا اور اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کر لی ۔ اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں۔ ایک تصویر اس کے آگے پیش کی ہے ہر ایک قسم کا قیام بھی کرتا ہے۔ زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے اس نے بھی کہا اور وہ شامل ہوگئی ۔ تیسری چیز اور ہے وہ اگر شامل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی ۔ وہ کیا ہے؟ وہ قلب ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کر کے دیکھے کہ در حقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے اور روح بھی کھڑا ہو ا حمد کرتا ہے جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے اور جب سُبْحَانَ ربی العظیم کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے۔ نہیں بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے۔ پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدہ میں گرا ہے۔ اس کی علو شان کو ملاحظہ میں لاکر اُس کے ساتھ ہی دیکھے کہ روح بھی الوہیت کے آستانہ پر گرا ہوا ہے۔ غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہوئے۔ اس وقت تک مطمئن نہ ہو کیونکہ يُقِيمُونَ الصَّلوة کے یہی معنی ہیں۔ اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیوں کر ہو تو اس کا جواب اتنا ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جاوے اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔ ابتدائی حالت میں شکوک وشبہات سے