ملفوظات (جلد 1) — Page 391
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۱ جلد اول اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک بیل جو قلبہ رانی کے واسطے خریدا گیا ہے اپنے منصب پر اس وقت قائم سمجھا جاوے گا کہ وہ کر کے دکھا دے، نہ صرف یہ کہ اس کی غرض وغایت کھانے پینے ہی تک محدود رہے ، وہ اپنی علت غائی سے دُور ہے اور اس قابل ہے کہ اُس کو ذبح کیا جاوے۔ اقامت صلوة اسی طرح يُقِيمُونَ الصَّلوةَ سے لوازم الصلوٰۃ معراج ہے اور یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق شروع ہوتا ہے۔ مکاشفات اور رویاء صالحہ آتے ہیں لوگوں سے انقطاع ہوتا جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پیدا ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ تبتل تام ہو کر خدا میں جاملتا ہے۔ صلی جلنے کو کہتے ہیں۔ جیسے کباب کو بھونا جاتا ہے اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔ جب تک دل بریاں نہ ہو نماز میں لذت اور سرور پیدا نہیں ہوتا اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے سچے معنوں میں اُس وقت ہوتی ہے۔ نماز میں یہ شرط ہے کہ وہ جمیع شرائط ادا ہو۔ جب تک وہ ادانہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلوٰۃ میں میل نماز کی ہے حاصل ہوتی ہے۔ یا درکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔ بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے۔ ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اُس کا منشا یہ ہے ۔ ایسا ہی صلوٰۃ میں منشائے الہی کی تصویر ہے۔ نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضا اور جوارح کی حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے۔ جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تحمید وتسبیح کرتا ہے، اس کا نام قیام رکھا ہے۔ اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمد وثنا کے مناسب حال قیام ہی ہے۔ بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہو کر ہی پیش کرتے ہیں۔ ادھر تو ظاہری طور پر قیام رکھا ہی ہے اور زبان سے حمد وثنا بھی رکھی ہے۔ مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو ۔ حمد ایک بات پر قائم ہو کر کی جاتی ہے۔ جو شخص مصدق ہو کر کسی کی تعریف کرتا ہے تو وہ ایک رائے پر قائم ہو جاتا ہے۔ اس اَلْحَمْدُ لِلهِ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ سچے طور پر