ملفوظات (جلد 1) — Page 393
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۳ جلد اول ایک جنگ ضرور ہوتی ہے۔ اس کا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگا ر ہے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہے آخر وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ یہ تقویٰ عملی کا ایک جزو ہے۔ اور دوسری جزو اس کی مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ: ۴) ہے جو کچھ دے رکھا انفاق رزق ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ عام لوگ رزق سے مراد اشیاء خوردنی لیتے ہیں یہ غلط ہے۔ جو کچھ قومی کو دیا جاوے وہ بھی رزق ہے۔ علوم وفنون وغیرہ معارف حقائق عطا ہوتے ہیں یا جسمانی طور پر معاش مال میں فراخی ہو ۔ رزق میں حکومت بھی شامل ہے اور اخلاق فاضلہ بھی رزق ہی میں داخل ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں یعنی روٹی میں سے روٹی دیتے ہیں۔ علم میں سے علم اور اخلاق میں سے اخلاق علم کا دینا تو ظاہر ہی ہے۔ بل یہ یادرکھو کہ وہی بخیل نہیں ہے جو اپنے مال میں سے کسی مشق کو کچھ نیں دیتا بلکہ وہ بھی نیل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہو اور وہ دوسروں کو سکھانے میں مضائقہ کرے۔ محض اس خیال سے اپنے علوم وفنون سے کسی کو واقف نہ کرنا کہ اگر وہ سیکھ جاوے گا تو ہماری بے قدری ہو جائے گی یا آمدنی میں فرق آجائے گا شرک ہے کیونکہ اس صورت میں وہ اس علم یا فن کو ہی اپنا رازق اور خدا سمجھتا ہے ۔ اسی طرح پر جو اپنے اخلاق سے کام نہیں لیتا وہ بھی بخیل ہے۔ اخلاق کا دینا یہی ہوتا ہے کہ جو اخلاق فاضلہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دے رکھے ہیں اُس کی مخلوق سے اُن اخلاق سے پیش آوے ۔ وہ لوگ اس کے نمونہ کو دیکھ کر خود بھی اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ خُلق کی تعریف اخلاق سے اس قدر ہی مراد نہیں ہے کہ زبان کی نرمی اور الفاظ کی نرمی سے کام لے۔ نہیں بلکہ شجاعت ، مروّت ، عفت ، جس قدر قو تیں انسان کو دی گئی ہیں دراصل سب اخلاقی قوتیں ہیں ، اُن کا بر محل استعمال کرنا ہی اُن کو اخلاقی حالت میں لے آتا