ملفوظات (جلد 1) — Page 371
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۱ جلد اول وہ خود بھی نفس کی ہوا میں مبتلا ہوتے ہیں اور یوں رونا کچھ فائدہ نہیں رکھتا۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت آنسو کا ایک قطرہ بھی دوزخ کو حرام کر دیتا ہے اور اس کی خشیت کا غلبہ دل پر ہو ہے ہاں اور اس میں ایک رفت اور گدازش پیدا ہو کر خدا کے لئے ایک قطرہ بھی آنکھ سے نکلے تو وہ یقیناً دوزخ کو حرام کر دیتا ہے ۔ پس انسان اس سے دھوکا نہ کھائے کہ میں بہت روتا ہوں ۔ اس کا فائدہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ آنکھ دُکھنے آجائے گی اور یوں امراضِ چشم میں مبتلا ہو جائے گا۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کے حضور اس کی خشیت سے متاثر ہوکر رونا دوزخ کو حرام کر دیتا ہے لیکن یہ گریہ و بکا نصیب نہیں ہوتا جب تک کہ خدا کو خدا اور اس کے رسول کو رسول اور اس کی سچی کتاب پر اطلاع نہ ہو نہ صرف اطلاع بلکہ ایمان ۔ طبیب جیسے ایک مریض کو جلا ب دیتا ہے اور اس کو ہلکے ہلکے دست آتے ہیں وہ مرض کو ضائع نہیں کرتے جب تک کہ جگری دست نہ آئیں۔ وہ اپنے ساتھ تمام موادر ڈیہ اور فاسدہ کو لے کر نکلتے ہیں اور ہر قسم کی عفونتیں اور زہریں جنہوں نے مریض کو اندر اندر ہی مضحل اور مضطرب کر رکھا تھا اُس کے ساتھ نکل جاتے ہیں اور اُس کو شفا ہوتی ہے ۔ اسی طرح پر جگری گریہ و بکا آستانہ الوہیت پر ہر ایک قسم کی نفسانی گندگیوں اور مفسد مواد کو لے کر نکل جاتا ہے اور اس کو پاک وصاف بنا دیتا ہے۔ اہل اللہ کا ایک آنسو جو توبة النصوح کے وقت نکلتا ہے ہوا و ہوس کے بندے اور ریا کاری اور ظلمتوں کے گرفتار کے ایک دریا بہا دینے سے افضل اور اعلیٰ ہے کیونکہ وہ خدا کے لئے ہے اور یہ خلق کے لئے یا اپنے نفس کے واسطے۔ اس بات کو کبھی اپنے دل سے محو نہ کرو کہ خدا تعالیٰ کے حضور اخلاص اور راستبازی کی قدر ہے۔ تکلف اور بناوٹ اُس کے حضور کچھ کام نہیں دے سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے ذرائع اب اگر یہ سوال ہوکہ پھر اس درجہ کے حصول کے لئے کیا کیا جائے اور قرآن کریم نے