ملفوظات (جلد 1) — Page 372
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۲ جلد اول اس درجہ پر پہنچنے کا کیا ذریعہ بتایا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے لئے دو باتیں بطور اصول کے رکھی ہیں۔ اول یہ کہ دعا کرو۔ یہ سچی بات ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء : ٢٩) انسان کمزور مخلوق ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کے بدوں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اس کا وجود اور اس کی پرورش اور بقا کے سامان سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے فضل پر موقوف ہیں ۔ احمق ہے وہ انسان جو اپنی عقل و دانش یا اپنے مال و دولت پر ناز کرتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے۔ وہ کہاں سے لایا ؟ اور دعا کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ انسان اپنے ضعف اور کمزوری کا پورا خیال اور تصور کرے۔ جوں جوں وہ اپنی کمزوری پر غور کرے گا اسی قدر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا۔ اور اس طرح پر دعا کے لئے اس کے اندر ایک جوش پیدا ہوگا ۔ جیسے انسان جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور دکھ یا تنگی محسوس کرتا ہے تو بڑے زور کے ساتھ پکارتا اور چلاتا ہے اور دوسرے سے مدد مانگتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ اپنی کمزوریوں اور لغزشوں پر غور کرے گا اور اپنے آپ کو ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا تو اس کی روح پورے جوش اور درد سے بے قرار ہو کر آستانہ الوہیت پر گرتی اور چلاتی ہے اور یا رَب يَا رَبّ کہہ کر پکارتی ہے۔ غور سے قرآن کریم کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ پہلی ہی سورہ میں اللہ تعالیٰ نے دعا کی تعلیم دی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة : ٦ ٧٠ ) دعا تب ہی جامع ہو سکتی ہے کہ وہ تمام منافع اور مفاد کو اپنے اندر رکھتی ہو اور تمام نقصانوں اور مضرتوں سے بچاتی ہو۔ پس اس دعا میں تمام بہترین منافع جو ہو سکتے ہیں اور ممکن ہیں وہ اس دعا میں مطلوب ہیں اور بڑی سے بڑی نقصان رساں چیز جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اُس سے بچنے کی دعا ہے۔ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہیں ۔ اوّل منعم علیہ گروہ کی چار اقسام نبی ۔ دوم صدیق - سوم شہید - چہارم صالحین ۔ پس اس دعا میں باربارکہ پچکا ۔ ۔ ۔ میں گویا ان چاروں گروہوں کے کمالات کی طلب ہے۔ نبی نبیوں کا عظیم الشان کمال یہ ہےکہ وہ خداسے خبریں پاتے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ( الجن : ۲۸،۲۷) یعنی خدا تعالیٰ کے