ملفوظات (جلد 1) — Page 370
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٣٧٠ جلد اول اس فن میں ماہر اور موجد انگریزوں کو جو قسم قسم کے باجے اور گانے کے سامان نکالتے ہیں ایسی ٹھوکر لگی کہ وہ خدا کے بالکل منکر یا تثلیث کے قائل ہو گئے باوجود یکہ دنیوی امور میں ایجادات و اختراعات میں ان کی عقلیں ترقی پذیر سمجھی جاتی ہیں ۔ پھر اس پر اور بھی غور کرو اور سوچو کہ اگر یہی معرفت کا ذریعہ تھا تو تھیٹروں میں ناچنے والے اور تمام ناچنے گانے والے پھر اعلیٰ درجہ کے صاحب دل اور صاحب کمال ماننے پڑیں گے۔ افسوس ان لوگوں کو خبر ہی نہیں کہ خدا کی معرفت ہوتی کیا ہے؟ اور انسانی کمال نام کس کا ہے؟ وہ شیطانی حصہ کی شناخت نہیں کر سکے ۔ اور نے صرف چند کے بلالیا اور دو مار انہوں نے صرف چند قطرے آنسوؤں کے بہالینا اور دو تین چیچنیں مار دینا رفت اور گریہ و بکا ہی رو کی تلی اور اطمینان کا موجب سمجھ رکھا ہے۔ بسا اوقات انسان ناول پڑھتا ہے ۔ جب اس میں کسی دردناک حصہ پر پہنچتا ہے با وصفیکہ جانتا ہے کہ یہ ایک فرضی کہانی اور جھوٹا قصہ ہے لیکن پھر بھی وہ ضبط نہیں کر سکتا اور بعض دفعہ چیخیں مار مار کر رو پڑتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہوا کہ محض رونا اور چلانا بھی اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ میں نے سنا ہے کہ ملوک چغتا ئیہ کے عہد سلطنت میں بعض لوگ ایسے ہوتے تھے جو شرط لگا کر یقیناً رلا دیتے تھے اور ہنسا دیتے تھے اور اب تو صریح یہ بات موجود ہے کہ طرح طرح کے ناول موجود ہیں ۔ بعض ایسے ہیں کہ اُن کو پڑھ کر بے اختیار ہنسی آتی ہے اور بعض ایسے ہیں کہ ان کو پڑھ کر دل بے اختیار ہو کر دردمند ہو جاتا ہے حالانکہ ان کو یقیناً بناوٹی قصے اور فرضی کہانیاں جانتے ہیں ۔ اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ انسان دھوکا کھاتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان نفسانی اغراض اور روحانی مطالب میں تمیز نہیں کرتا ۔ جس قدر لوگ دنیا میں ہیں ان میں سے ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو علامات حقیقیہ سے بے نصیب ہیں۔ ان کے منہ سے معارف اور حقائق نہیں نکلتے پھر رلا دیتے ہیں۔ اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ وہ حقائق اور معارف سے بہرہ ور ہیں جو عبودیت کے رنگ سے رنگین ہو کر الوہیت کے عظمت و جلال سے خائف اور ترساں ہو کر بولتے ہیں بلکہ اس کی تہہ میں وہی بات ہوتی ہے جو میں نے ابھی ناولوں اور کہانیوں کے متعلق بیان کی ہے۔