ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 294

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۴ جلد اول دھوپ ہو، جاڑا ہو، دیہات کے راستے خراب ہوں کوئی عذر سنا نہیں جاتا اور تنخواہ پوچھو تو پانچ روپے۔ اور حکام بالا دست کا معاملہ اس کے بالکل بر خلاف ہے۔ رہبانیت معرفت تامہ کا ذریعہ نہیں ہے اس قانون سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ خدا تعالی کا قانون بھی اپنے برگزیدوں سے ایسا ہی ہے۔ خطر ناک ریاضتیں کرنا اور اعضاء اور قومی کو مجاہدات میں بے کار کر دینا محض لکھی بات اور لا حاصل ہے۔ اسی لئے ہمارے ہادی کامل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ یعنی جب انسان کو صفت اسلام ) گردن نهادن بر حکم خدا و مواقفت تامہ بمقادیر الہیہ ) میسر آ جائے ، تو پھر رہبانیت یعنی ایسے مجاہدوں اور ریاضتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ ( اس کے بعد سادھو صاحب تشریف لے گئے اور کھانا رکھا گیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ) یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا۔ اس لئے کہ وہ معرفت تامہ کا ذریعہ نہیں ہے۔ لے ۱۰ اگست ۱۸۹۹ء سے قبل دنیا کی خوشامد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں میں نے بار ہا اپنے محبوب مرشد سید الاولیا عیسیٰ موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے سنا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں ۔ ہم اس پر قادر ہیں کہ ایسی تقریریں کریں اور ایسی تحریریں شائع کریں کہ لوگوں کی مصطلح صلح گل کے ڈھانچہ میں ڈھلی ہوئی ہوں اور سب قو میں علی اختلاف المشارب خوش ہو جاویں اور حکام و رعایا میں سے کسی کو بھی کبھی اُن پر نکتہ چینی کا موقع نہ مل سکے مگر اس خسیس دنیا کو خوش کر کے اپنے خدا کی دھتکار کی طاقت ہم کہاں رکھ سکتے ہیں۔ ہے الحکم جلد ۳ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۸۹۹ صفحه ۳ تا ۵ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۸۹۹ صفحه ۲ از خط مولا نا عبدالکریم صاحب