ملفوظات (جلد 1) — Page 295
ملفوظات حضرت مسیح موعود هفته مختتمه ۱۱ اگست ۱۸۹۹ء ۲۹۵ بعض لوگ حضرت مسیح موعود کی خدم خدمت میں دعا کے لئے لکھا کرتے تھے ۔ جس تے تھے۔ جس کے جواب میں ان کو تحریر کیا جاتا تھا کہ دعا کی گئی، مگر بعد ازاں وہ دوبارہ لکھ دیا کرتے کہ کچھ فائدہ نہیں ہوا ۔ اور 66 جلد اول دو حال سے خالی نہیں ۔ یا تو آپ نے دعا نہیں کی یا اگر کی ہے تو توجہ سے نہیں کی ۔“ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک دن عرض کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ سخت ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ دعا کے مضمون پر پھر قلم اٹھایا جائے اور پہلے دعا کی حقیقت من مضمون کافی ثابت نہیں ہوئے ۔ دعا نہایت نازک امر ہے اس کے لئے ، امر ہے اس ۔ شرط ہے کہ مستدعی اور داعی میں ایسا رابطہ مستحکم ہو جائے کہ اس کا درد اس کا درد ہو جائے اور اس کی خوشی اس کی خوشی ہو جائے ۔ جس طرح شیر خوار بچہ کا رونا ماں کو بے اختیار کر دیتا اور اس کی چھاتیوں میں دودھ اتر آتا ہے ویسے ہی مستدعی کی حالت زار اور استغاثہ پر داعی سراسر رقت اور عقد ہمت بن جائے ۔ توجہ اور رقت بھی خدا تعالیٰ کے ہاں سے نازل ہوتی ہے فرمایا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب امور خدا تعالیٰ کی موہبت ہیں اکتساب کو ان میں دخل نہیں۔ توجہ اور رقت بھی خدا کے ہاں سے نازل ہوتی ہے جب خدا چاہتا ہے کہ کسی کے لئے کامیابی کی راہ نکال دے۔ مگر سلسلہ اسباب میں ضروری ہوتا ہے کہ داعی کو کوئی محرک شدید جنبش دے سکنے والا ہو۔ اس کی تدبیر بجز اس کے نہیں کہ مستدعی اپنی حالت ایسی بنائے کہ اضطراراً داعی کو اس کی طرف توجہ ہو جائے ۔ فرمایا کہ جو حالت میری توجہ کو جذب کرتی اور جسے دیکھ کر میں دعا دعا اور خدمت دین کے لئے اپنے اندر تحریک پاتا ہوں۔ وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی