ملفوظات (جلد 1) — Page 293
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۳ جلد اول پس اس سے معلوم ہوا کہ مقربان بارگاہ الہی پر جو مخالفانہ حملے ہوتے ہیں وہ کیوں ہوتے ہیں؟ معرفت اور گیان کے کوچہ سے بے خبر لوگ ایسی مخالفتوں کو ایک ذلت سمجھتے ہیں مگر ان کو کیا خبر ہوتی ہے کہ اس ذلت میں ان کے لئے ایک عزت اور امتیاز نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود اور ہستی پر ایک نشان ہوتا ہے۔ اسی لئے یہ وجود آیات اللہ کہلاتے ہیں ۔ غرض ہم جو اشتہار دے دے کر لوگوں کو بلاتے ہیں تو ہماری یہی آرزو ہے کہ ان کو اس خدا کا پتا دیں جسے ہم نے پایا اور دیکھا ہے اور وہ اقرب راہ بتلائیں جس سے انسان جلد با خدا ہو جاتا ہے۔ پس ہمارے خیال میں قصہ کہانی سے کوئی معرفت اور گیان ترقی نہیں پا سکتا جب تک کہ خود عملی حالت سے پاس انسان نہ دیکھے اور یہ بدوں اس راہ کے جو ہماری راہ ہے میسر نہیں اور اس راہ کے لئے ایسی صعوبتوں اور مشقتوں کی ضرورت نہیں۔ یہاں دل بکار ہے۔ خدا تعالیٰ کی نگاہ دل پر پڑتی ہے اور جس دل میں محبت اور عشق ہو اس کو مورتی سے کیا غرض ؟ مورتی پوجا سے انسان کبھی صحیح اور یقینی نتائج پر پہنچ نہیں سکتا۔ خدا تعالی اخلاص و محبت کو دیکھتا ہے خدا تعالی کی نگاہ انسان تقلص کے دل کے ایک ما ہے نقطہ پر ہوتی ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اس کی خاطر وہ خوشی دل سے ہر صعوبت و مکروہ کو برداشت کر لے گا ۔ یہ ضرور نہیں کہ کوئی بڑی بڑی مشقتیں کرے اور دائم حاضر باش رہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ خاکروب ہمارے مکان میں آ کر بڑی تکلیف اٹھاتا ہے اور جو کام وہ کرتا ہے ہمارا ایک بڑا معزز مخلص دوست وہ کام نہیں کر سکتا تو کیا ہم اپنے وفادار احباب کو بے قدر سمجھیں اور خاکروب کو معزز و مکرم خیال کریں۔ بعض ہمارے ایسے بھی احباب ہیں جو مدتوں کے بعد تشریف لاتے ہیں اور انہیں ہر وقت ہمارے پاس بیٹھنا میسر نہیں آتا، مگر ہم خوب جانتے ہیں کہ ان کے دلوں کی بناوٹ ایسی ہے اور وہ اخلاص ومودّت سے ایسے خمیر کئے گئے ہیں کہ ایک وقت ہمارے بڑے بڑے کام آسکتے ہیں ۔ نظام قدرت میں بھی ہم ایسا ہی دیکھتے ہیں کہ جتنا شرف بڑھ جاتا ہے ، محنت اور کام ہلکا ہو جاتا ہے۔ ایک مذکوری کو دیکھ لو ۔ انبار پروانوں کا اسے دیا جاتا ہے اور ایک ہفتہ کے اندر حکم ہے کہ تعمیل کر کے حاضر ہو۔ برسات ت ہو،