ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 292

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۲ جلد اول ہیں۔ کوئی کچھ بولتا ہے کوئی کچھ غرض ان بھانت بھانت کی بولیوں کو سن کر جو ہر ملک میں جو اس دنیا پر آباد ہے یورپ ، امریکہ وغیرہ میں اشتہار دیتے ہیں اس کی غرض کیا ہے ۔ ہماری غرض بجز اس کے اور کچھ نہیں تا کہ لوگوں کو اس خدا کی طرف رہنمائی کریں ہماری غرض جسے ہم نے خود یکھا ہے سنی سنائی بات اور قصہ کے رنگ میں ہم خدا کو دکھانا نہیں چاہتے بلکہ ہم اپنی ذات اور اپنے وجود کو پیش کر کے دنیا کو خدا تعالیٰ کا وجود منوانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک سیدھی بات ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف جس قدر کوئی قدم اٹھاتا ہے خدا تعالیٰ اس سے زیادہ شرعت اور تیزی کے ساتھ اس کی طرف آتا ہے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک معزز آدمی کا منظور نظر عزیز اور واجب التعظیم سمجھا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والا اپنے اندر ان نشانات میں سے کچھ بھی حصہ نہ لے گا جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور بے انتہا طاقتوں کا نمونہ ہوں ۔ کہ اس کو مقربان بارگاہ الہی کا مقام یہ یادرکھ کہ خدا تعالی کی غیر بھی تقاضا ہیں کری کہا ایسی حالت میں چھوڑے کہ وہ ذلیل ہو کر پیا جاوے۔ نہیں بلکہ جیسے وہ خود وحدہ لاشریک ہے وہ اپنے اس بندہ کو بھی ایک فرد اور وحدہ لاشریک بنا دیتا ہے۔ دنیا کے تختہ پر کوئی انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ ہر طرف سے اس پر حملے ہوتے ہیں اور ہر حملہ کرنے والا اس کی طاقت کے اندازہ سے بے خبر ہو کر جانتا ہے کہ میں اسے تباہ کر ڈالوں گا لیکن آخر اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا بچ نکلنا انسانی طاقت سے باہر کسی قوت کا کام ہے کیونکہ اگر اسے پہلے سے یہ علم ہوتا تو وہ حملہ بھی نہ کرتا ۔ پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے حضور ایک تقرب حاصل کرتے ہیں اور دنیا میں اس کے وجود اور ہستی پر ایک نشان ہوتے ہیں ۔ بظاہر اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ہر ایک مخالف اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ میرے مقابلہ میں یہ بیچ نہیں سکتا کیونکہ ہر قسم کی تدبیر اور کوشش کے نتائج اسے یہیں تک پہنچاتے ہیں لیکن جب وہ اس زد میں سے ایک عزت اور احترام کے ساتھ اور سلامتی سے نکلتا تھا تو ایک دم کے لئے تو اسے حیران ہونا پڑتا ہے کہ اگر انسانی طاقت کا ہی کام تھا تو اس کا بچنا محال تھا لیکن اب اس کا صحیح سلامت رہنا انسان نہیں بلکہ خدا کا کام ہے۔